اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا نے آئندہ تین برسوں کے اندر چینی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے کینیڈا میں الیکٹرک وہیکل (EV) تیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایک سینئر کینیڈین عہدیدار کے مطابق حکومت کا مقصد یہ ہے کہ کینیڈا شمالی امریکا کا پہلا ملک بنے جو چینی مہارت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے۔عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ سمجھنا ایک بنیادی غلطی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کبھی بھی چینی الیکٹرک گاڑیوں کو امریکی مارکیٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کے مطابق عالمی آٹو انڈسٹری میں تبدیلی ناگزیر ہے اور کینیڈا اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔
چین کے ساتھ ٹیرف معاہدہ
کینیڈا نے جمعہ کے روز چین کے ساتھ ایک نیا تجارتی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ہر سال 49 ہزار تک چینی الیکٹرک گاڑیوں کو کینیڈین مارکیٹ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی، اور ان پر 6.1 فیصد ٹیرف لاگو ہوگا۔ یہ شرح 2024 میں عائد کیے گئے 100 فیصد ٹیرف کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔اس معاہدے کے بدلے چین نے کینیڈا کی برآمدات، جن میں کینولا، لابسٹر، کیکڑے اور مٹر شامل ہیں، پر عائد ڈیوٹیز کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
امریکا کو پیشگی اطلاع
سینئر عہدیدار کے مطابق کینیڈا نے اس فیصلے سے قبل امریکا کو اعتماد میں لیا تھا۔ کینیڈا کی امریکا میں سفیر کرسٹن ہل مین ان مذاکرات سے باخبر تھیں، اور وزیرِاعظم مارک کارنی اور چینی صد رشی جن پنگ کی ملاقات کے بعد امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔عہدیدار کے مطابق امریکی ردعمل مجموعی طور پر غیر جانبدار رہا۔ صدر ٹرمپ نے خود کہا کہ کینیڈا کا چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا درست قدم ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا“اگر آپ چین کے ساتھ کوئی ڈیل حاصل کر سکتے ہیں تو آپ کو ایسا کرنا چاہیے۔”
واشنگٹن میں تشویش
تاہم، امریکی انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر نے اس معاہدے کو “کینیڈا کے لیے مسئلہ خیز” قرار دیا اور کہا کہ امریکا میں چینی گاڑیاں اس لیے فروخت نہیں ہوتیں کیونکہ وہاں امریکی آٹو ورکرز کے تحفظ کے لیے بھاری ٹیرف عائد ہیں۔امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹیشن شان ڈفی نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ کینیڈا مستقبل میں اس فیصلے پر پچھتا سکتا ہے۔
کینیڈا کی آٹو پالیسی اور اندرونی اختلافات
کینیڈا کی وفاقی حکومت فروری میں ایک نئی آٹو پالیسی متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کا مقصد ملک کی 1 لاکھ 25 ہزار افراد پر مشتمل آٹو انڈسٹری کو فروغ دینا اور طویل مدت میں امریکا سے آگے نکلنا ہے۔تاہم، اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے اس چین معاہدے کو آٹو سیکٹر کے لیے “تباہ کن” قرار دیا اور شکایت کی کہ وزیرِاعظم نے اعلان سے پہلے انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ادھر امریکی دباؤ کے باعث کئی آٹو ساز کمپنیاں کینیڈا سے پیداوار امریکا منتقل کر رہی ہیں۔ حال ہی میں حکومت نے آٹو کمپنی اسٹیلانٹس کو ونڈسر اور برامپٹن میں منصوبوں سے پیچھے ہٹنے پر فنڈنگ معاہدوں کی خلاف ورزی کا نوٹس دینے کا اعلان کیا ہے۔
مقامی پیداوار کو ترجیح
سینئر عہدیدار کے مطابق حکومت ایسے غیر ملکی آٹو ساز اداروں کو ترجیحی سہولیات دے گی جو کینیڈا میں گاڑیاں تیار کریں گے، جبکہ صرف درآمدات پر انحصار کرنے والی کمپنیوں کے لیے شرائط کم سازگار ہوں گی۔وزیرِاعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ یہ معاہدہ کینیڈین صارفین کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کو زیادہ سستا بنائے گا، جبکہ یہ گاڑیاں مجموعی مارکیٹ کا صرف تین فیصدحصہ ہوں گی۔