گرین لینڈ پر امریکی دباؤ میں اضافہ، کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی کا اظہارِ تشویش

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے گرین لینڈ کے معاملے پر امریکا کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ اور ممکنہ تجارتی پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی یہ حکمتِ عملی ایک خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے جو نہ صرف یورپی ممالک بلکہ مجموعی طور پر عالمی استحکام اور اتحادی تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

دوحہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران مارک کارنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ کینیڈا اس صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور اسے ایک واضح “ایسکلیشن” تصور کرتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر گرین لینڈ کی “مکمل اور حتمی خریداری” پر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ پر یکم فروری سے 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جو یکم جون سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔ گرین لینڈ، جو ڈنمارک کے تحت ایک خودمختار علاقہ ہے، اپنی جغرافیائی حیثیت اور آرکٹک میں اسٹریٹجک اہمیت کے باعث عالمی طاقتوں کی خاص توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا کا مؤقف بالکل واضح ہے: گرین لینڈ کا مستقبل اس کے عوام اور ڈنمارک کو مل کر طے کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ کینیڈا ہمیشہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرے گا، چاہے ان کا محلِ وقوع دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو۔ ان کے مطابق، گرین لینڈ نیٹو کے دفاعی دائرہ کار میں آتا ہے اور کینیڈا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آرکٹک کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہے۔

کارنی نے انکشاف کیا کہ ان کی حال ہی میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے پیرس میں ملاقات ہوئی، جس میں آرکٹک میں سلامتی کے تحفظ اور دفاعی تعاون کو بڑھانے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ دوسری جانب، مارک روٹے نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے گرین لینڈ اور آرکٹک کی سلامتی کی صورتحال پر گفتگو کی ہے اور اس حوالے سے مزید پیش رفت کی امید ظاہر کی ہے۔

دریں اثنا، ڈنمارک کی وزارتِ خارجہ نے ان تمام یورپی ممالک کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کیا ہے جنہیں امریکی ٹیرف کی دھمکی دی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تجارتی پابندیوں کی دھمکیاں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو کمزور کرتی ہیں اور ایک خطرناک منفی سلسلے کو جنم دے سکتی ہیں۔ ان ممالک نے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی خودمختاری کے دفاع کے عزم کو دہرایا ہے۔

کینیڈا کی تازہ دفاعی پالیسی میں چین اور روس کے آرکٹک میں بڑھتے ہوئے عزائم پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ پالیسی مارک کارنی کے اقتدار میں آنے سے قبل جاری کی گئی تھی، تاہم کارنی نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی بات چیت میں کینیڈین اور گرین لینڈ کی آرکٹک خودمختاری کے حوالے سے خاصی ہم آہنگی پائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کینیڈا نے آرکٹک میں اپنی فوجی موجودگی کو پورا سال، زمین، سمندر اور فضا میں بڑھا دیا ہے۔

مارک کارنی نے عندیہ دیا کہ اگر عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوئی تو وہ گرین لینڈ کے معاملے پر کینیڈا کا مؤقف براہِ راست ان کے سامنے رکھیں گے۔ اس تمام صورتحال نے آرکٹک خطے میں طاقت کے توازن، اتحادی تعلقات اور عالمی سلامتی پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جو آنے والے مہینوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں