اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کراچی کے مشہور گل پلازہ میں لگنے والی تباہ کن آگ کے بعد حکام کی جانب سے جاری رپورٹ میں عمارت میں حفاظتی انتظامات کی سنگین کمی کو اجاگر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، عمارت میں ہنگامی اخراج (ایمرجنسی ایگزٹ) کے لیے کوئی مناسب راستہ موجود نہیں تھا اور آگ لگنے کی صورت میں فوری ردعمل کے لیے انتظامات بھی ناقص تھے۔ اس کے علاوہ عمارت میں داخلی اور خارجی راستے اتنے تنگ تھے کہ فائر فائٹنگ کے دوران آگ پر قابو پانے میں تکنیکی مشکلات پیش آئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ 1995 میں تعمیر ہوئی تھی اور ابتدا میں یہ صرف بیسمنٹ، گراؤنڈ اور پہلی منزل پر مشتمل تھی۔ تاہم، 2003 تک مختلف اوقات میں تین اضافی فلورز تعمیر کیے گئے۔ اگرچہ عمارت کی ابتدائی ڈیزائن کے مطابق 500 دکانوں کی گنجائش تھی، لیکن بعد میں دکانوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی، جس سے حفاظتی معیار اور آگ لگنے کی صورت میں ایمرجنسی انتظامات پر مزید دباؤ پڑا۔
واقعہ کی شدت کو دیکھتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایم اے جناح روڈ پر واقع اس عمارت میں ہفتے کی رات تقریباً سوا 10 بجے آگ لگی، جو دیکھتے ہی دیکھتے گراؤنڈ فلور سے تیسری منزل تک پھیل گئی۔ اس واقعے میں چھ افراد جاں بحق ہوئے، عمارت کے کئی حصے شدید نقصان کا شکار ہوئے اور 30 افراد زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق 60 سے زائد افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں، جبکہ آگ کی شدت اور عمارت کے ناقص ڈھانچے کے سبب تلاش اور بچاؤ کے عمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ واقعہ انتظامی غفلت اور حفاظتی قوانین کی عدم پابندی کا نتیجہ ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اگر ہنگامی اخراج کے راستے اور آگ سے نمٹنے کے بنیادی انتظامات موجود ہوتے تو انسانی جانوں کے ضیاع کو کافی حد تک روکا جا سکتا تھا۔ اس سانحے نے کراچی میں پرانی اور غیر محفوظ عمارتوں کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس واقعے نے شہریوں اور حکام کو آگاہ کیا ہے کہ محفوظ ڈیزائن اور مناسب حفاظتی اقدامات نہ صرف املاک کی حفاظت بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی لازمی ہیں۔