کینیڈا ،معیشت کی بہتری کے حکومتی اعداد و شمار کے باوجود عوام پریشان کیوں ؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی معیشت بظاہر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف حکومتی اور مرکزی بینک کے اعداد و شمار یہ تاثر دیتے ہیں کہ ملک بدترین معاشی بحران سے نکل آیا ہے

، تو دوسری جانب عام شہری کی نفسیات، خدشات اور روزمرہ تجربات ایک مختلف کہانی سناتے ہیں۔ بینک آف کینیڈا کی تازہ سہ ماہی  سروے آف کنزیومر ایکسپیکٹیشنز نے اس خلیج کو مزید واضح کر دیا ہے، جہاں ’’سخت ڈیٹا‘‘ اور ’’نرم جذباتی ڈیٹا‘‘ ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں۔یہ سروے اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ کینیڈین صارفین آج بھی مہنگائی، ملازمت کے عدم تحفظ اور امریکا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے باعث معاشی بے یقینی کا شکار ہیں۔ اگرچہ کئی معاشی اشاریے بہتری کی جانب اشارہ کر رہے ہیں، تاہم عوام کا اعتماد تاحال وبا سے پہلے کی سطح تک بحال نہیں ہو سکا۔
بینک آف کینیڈا کے سروے کے مطابق شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو خدشہ ہے کہ وہ مستقبل قریب میں قرضوں کی ادائیگی میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملازمت کھونے کا خوف بھی بڑھ رہا ہے، خاص طور پر اُن شعبوں میں جو براہِ راست امریکا کے ساتھ تجارت سے وابستہ ہیں۔یہ خدشات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی ردعمل ہیں، جو گزشتہ چند برسوں کے مسلسل بحرانوں — کووڈ-19، عالمی مہنگائی، شرحِ سود میں تیزی، اور اب تجارتی جنگ — کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں۔ صارفین توقع کر رہے ہیں کہ قلیل مدت میں مہنگائی بلند رہے گی، اور اس کی بنیادی وجہ وہ امریکی ٹیرف کو قرار دے رہے ہیں۔
سروے کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ معاشی بے یقینی نے کینیڈین شہریوں کے خرچ کرنے کے رویے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ زیادہ تر صارفین نے اعتراف کیا کہ بلند قیمتیں، غیر یقینی معاشی حالات اور رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات ان کے لیے بڑے اخراجات میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں زیادہ افراد نے محسوس کیا کہ ان کی مالی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق صارفین کے اخراجات کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، اور جب عوام پیسہ خرچ کرنے سے گھبرانے لگیں تو معاشی سست روی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
مایوسی کے اس ماحول میں کچھ مثبت پہلو بھی نظر آتے ہیں۔ سروے میں شامل افراد نے اس بات پر قدرے اطمینان کا اظہار کیا کہ انہیں نوکری ملنے یا رضاکارانہ طور پر نوکری چھوڑنے کے بہتر مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ اسی طرح طویل مدت میں مہنگائی کے حوالے سے توقعات وبا سے پہلے کی سطح سے بھی نیچے آ گئی ہیں۔ یہ امر اس بات کا اشارہ ہے کہ عوام مرکزی بینک کی پالیسیوں پر مکمل طور پر بداعتماد نہیں، تاہم یہ اعتماد وقتی ہے اور کسی بھی نئے جھٹکے سے بکھر سکتا ہے۔رائل بینک آف کینیڈا کی سینئر ماہرِ معاشیات کلیئر فین کے مطابق کینیڈا میں گزشتہ ایک سال کے دوران ’’سافٹ ڈیٹا‘‘ یعنی عوامی جذبات اور ’’ہارڈ ڈیٹا‘‘ یعنی معاشی اعداد و شمار کے درمیان فرق مسلسل بڑھتا رہا ہے۔

ایک طرف معیشت تکنیکی کساد بازاری سے بچ گئی، افراطِ زر مرکزی بینک کے ہدف میں رہا، اور لیبر مارکیٹ نے کسی حد تک بحالی دکھائی، مگر دوسری طرف عوام کا اعتماد مسلسل کمزور ہوتا گیا۔ یہ تضاد کسی بھی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اگر عوام معاشی بہتری کو محسوس ہی نہ کریں تو پالیسی اقدامات کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔دلچسپ طور پر سروے میں شامل تقریباً نصف افراد کا ماننا ہے کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ تجارتی تنازع کے بدترین اثرات سے بچ نکلا ہے۔ مزید 10 فیصد کے نزدیک بدترین دور گزر چکا ہے، جبکہ 28 فیصد اب بھی سمجھتے ہیں کہ اصل مشکلات ابھی باقی ہیں۔ یہ تبدیلی گزشتہ سہ ماہی کے سروے کے مقابلے میں نمایاں ہے، جہاں اکثریت کو خدشہ تھا کہ اصل نقصان ابھی سامنے آنا باقی ہے۔

ماہرین کے مطابق مجموعی سطح پر یہ احساس درست ہو سکتا ہے، مگر کئی بنیادی سوالات اب بھی حل طلب ہیں۔کینیڈا اور امریکا کے تجارتی تعلقات کا مستقبل تاحال دھند میں لپٹا ہوا ہے۔ امریکی IEEPA ٹیرف کی قانونی حیثیت، اور کینیڈا-امریکا-میکسیکو معاہدے (CUSMA) کا مستقبل ایسے عوامل ہیں جو کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ جب تک ان معاملات پر واضح پیش رفت نہیں ہوتی، معیشت پر غیر یقینی کے بادل چھائے رہیں گے، اور صارفین محتاط رویہ اپنائے رکھیں گے۔اگرچہ مجموعی افراطِ زر نسبتاً مستحکم ہو چکا ہے، مگر خوراک اور رہائش کے اخراجات آج بھی عوام پر بھاری ہیں۔

اسٹیٹسٹکس کینیڈا کے مطابق 2025 میں گروسری کی سالانہ مہنگائی 3.5 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2024 کے 2.2 فیصد کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق صارفین مہنگائی کو سب سے زیادہ گروسری اسٹور پر محسوس کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایک باقاعدہ اور ناگزیر خرچ ہے۔ کیلگری کے شہری بریڈ برگ جیسے ہزاروں افراد اب کم خرچ کرنے، اشیا ذخیرہ کرنے اور صرف رعایتی اشیا خریدنے پر مجبور ہیں۔یونیورسٹی آف گویلپ کے ماہرِ معاشیات مائیک وان میسو کے مطابق انسان اچھی خبروں کے مقابلے میں بری خبروں پر زیادہ شدید ردعمل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی عوام کو زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے۔
یہ اثر خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے شدید ہے، جن کے پاس مہنگائی سے بچنے کا کوئی متبادل راستہ نہیں۔ خوراک اور رہائش کے بڑھتے اخراجات ان کی زندگی کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔
کینیڈا کی معیشت شاید تکنیکی طور پر درست سمت میں جا رہی ہو، مگر اصل چیلنج عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔ جب تک شہری یہ محسوس نہیں کرتے کہ ان کی روزمرہ زندگی واقعی بہتر ہو رہی ہے، اعداد و شمار کی بہتری محض کاغذی کامیابی رہے گی۔حکومت اور بینک آف کینیڈا کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف مہنگائی کو قابو میں رکھیں بلکہ خوراک، رہائش اور ملازمت کے تحفظ جیسے بنیادی مسائل پر فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ بصورتِ دیگر معاشی عدم اعتماد ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے — ایسا بحران جو کسی بھی ترقی یافتہ معیشت کے لیے سب سے خطرناک ہوتا ہے۔

 

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں