اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے آج کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ دنیا بڑی طاقتوں کے درمیان خطرناک رقابت کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ہفتے ایک بار پھر گرین لینڈ کے الحاق کے مطالبے کے تناظر میں وزیراعظم کارنی نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا کہ محض تابعداری اختیار کرنے سے تحفظ حاصل ہونے کی امید ایک خطرناک فریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا جیسے ممالک نے ایک ایسے عالمی نظام کے تحت ترقی کی جو قوانین پر مبنی، قابلِ پیش گوئی اور مستحکم تھا، مگر اب اس نظام پر مزید انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
مارک کارنی نے کہاایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر دن ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ ہم بڑی طاقتوں کی رقابت کے عہد میں جی رہے ہیں، قوانین پر مبنی عالمی نظام زوال کا شکار ہے، اور اب طاقتور وہی کرتے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں جبکہ کمزور وہی سہتے ہیں جو ان کے مقدر میں ہوتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا،اس منطق کے سامنے بہت سے ممالک یہ راستہ اختیار کرنے لگتے ہیں کہ وہ ہم آہنگ ہو جائیں، سمجھوتہ کریں، تنازع سے بچیں، اور یہ امید رکھیں کہ اطاعت انہیں تحفظ دے گی—لیکن ایسا نہیں ہوگا۔”
وزیراعظم نے کہا کہ طویل عرصے سے قائم قوانین پر مبنی عالمی نظام دراصل ایک “مفید افسانہ” تھا جو امریکی بالادستی کے سہارے قائم رہا۔ان کے مطابق گزشتہ ایک سال نے واضح کر دیا ہے کہ دنیا معاشی دباؤ اور جبر پر مبنی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں بڑی طاقتیں ہر چیز پر اپنے مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں۔
کارنی نے زور دیا کہ کینیڈا جیسے درمیانے درجے کے ممالک کو اس نئی حقیقت کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، اور یہی وجہ ہے کہ کینیڈا امریکا کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دے رہا ہے، جن میں حال ہی میں چین اور قطر کے ساتھ کیے گئے معاہدے بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا،ہم کسی عبوری مرحلے میں نہیں بلکہ ایک واضح ٹوٹ پھوٹ کے دور سے گزر رہے ہیں۔”
“اسی لیے بہت سے ممالک اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ انہیں زیادہ اسٹریٹجک خودمختاری حاصل کرنا ہوگی۔ جو ملک اپنی خوراک، ایندھن یا دفاع خود فراہم نہیں کر سکتا، اس کے پاس بہت کم راستے بچتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا جیسے ممالک کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہمیں خود کو بدلنا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کس طرح تبدیلی لاتے ہیں۔
کیا ہم صرف اونچی دیواریں کھڑی کر کے خود کو محدود کر لیں، یا ہم اس سے کہیں زیادہ جرات مندانہ راستہ اختیار کر سکتے ہیں؟” انہوں نے نئے تجارتی شراکت داروں سے روابط کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاانہوں نے تسلیم کیا کہ،ہر شراکت دار ہماری تمام اقدار سے متفق نہیں ہوگا۔ہم کھلی آنکھوں کے ساتھ، سوچ سمجھ کر اور وسیع پیمانے پر دنیا سے روابط قائم کر رہے ہیں۔ ہم دنیا کو ویسا ہی قبول کر رہے ہیں جیسی وہ ہے، نہ کہ اس دنیا کا انتظار کر رہے ہیں جیسی ہم چاہتے ہیں۔”
انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہادرمیانی طاقتوں کو مل کر عمل کرنا ہوگا، کیونکہ اگر ہم میز پر نہیں ہوں گے تو پھر ہم مینو پر ہوں گے،” جس پر حاضرین میں ہنسی بکھر گئی۔