اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ان کا غزہ پیس بورڈ کو اقوامِ متحدہ کا متبادل بنانے کا کوئی ارادہ نہیں
اور اقوامِ متحدہ کو عالمی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔صدر ٹرمپ نے اپنے عہدہ صدارت کے ایک سال مکمل ہونے پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ سے متعلق کسی بھی اقدام کا مقصد اقوامِ متحدہ کو کمزور کرنا نہیں بلکہ امن کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تنازعات کے حل میں اقوامِ متحدہ کا کردار ناگزیر ہے اور یہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔
پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر نے نیٹو اتحاد کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ نیٹو عسکری اتحاد کو مؤثر بنانے میں ان کا کردار کلیدی رہا ہے اور نیٹو کے لیے جتنا کام انہوں نے کیا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر وہ ایسا اقدام کریں گے جس سے امریکہ اور نیٹو دونوں مطمئن ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں کے ساتھ اپنے تعلقات کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیادت کی سطح پر مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔ تاہم انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پیرس میں ہونے والے جی سیون اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
امریکی صدر نے اس موقع پر وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو سے ملاقات کے امکان کو بھی مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مادورو سے کسی قسم کی ملاقات میں کوئی دلچسپی نہیں، حالانکہ امریکہ پہلے ہی وینزویلا سے پچاس ملین بیرل تیل حاصل کر چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ اس دوران آٹھ طیارے مار گرائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ جنگ رکوانے سے لاکھوں جانیں بچائی گئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ نہ روکی جاتی تو دس سے بیس ملین افراد ہلاک ہو سکتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اب تک آٹھ جنگیں رکوا چکے ہیں اور یہ سب انہوں نے نوبیل انعام کے لیے نہیں کیا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے بھی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔