اردو ورلڈ کینیڈا ( وبیب نیوز ) متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کر لی ہے۔
بحرینی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ دعوت شاہِ بحرین حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے باضابطہ طور پر منظور کر لی ہے، جس کے بعد بحرین اس مجوزہ عالمی امن فورم کا حصہ بن گیا ہے۔بحرینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکتِ بحرین کا یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 20 نکاتی امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کے عزم کا مظہر ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق بحرین کو امید ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا، جن میں رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون کا فروغ، مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی حمایت اور خطے کے عوام کے لیے ترقی اور خوشحالی کے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا دنیا بھر کے مختلف رہنماؤں سے رابطے میں ہے اور ان سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم کیے گئے اس بورڈ کا حصہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق بورڈ کے رکن ممالک کی مدتِ رکنیت زیادہ سے زیادہ تین سال ہوگی، جبکہ مستقل نشست حاصل کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر فیس بھی مقرر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت قائم کیے گئے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والا پہلا مسلم ملک بن چکا ہے۔ مزید یہ کہ صدر ٹرمپ نے اس بورڈ میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی شمولیت کی دعوت دے رکھی ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔