اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پاکستان اور کینیڈا نے معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کے درمیان ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران سامنے آئی، جس میں مستقبل کی شراکت داری، سرمایہ کاری کے امکانات اور تکنیکی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران فریقین نے پاکستان کے معدنی وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے، توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ اس موقع پر کینیڈین ہائی کمشنر نے بلوچستان میں واقع ریکوڈک منصوبے کو پاک کینیڈا معدنی تعاون کی ایک کامیاب اور عملی مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کی شمولیت نہ صرف معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے سماجی بہتری کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔
طارق علی خان کے مطابق ریکوڈک منصوبے کے تحت مقامی سطح پر ترقیاتی اقدامات کو فروغ دیا جا رہا ہے، جن میں تعلیمی اداروں، صحت کے مراکز اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور دیرپا شراکت داری کو مضبوط کرتے ہیں اور مستقبل میں مزید مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اس موقع پر کہا کہ ریکوڈک منصوبے نے عالمی مالیاتی اداروں سے غیر معمولی سطح کی فنڈنگ حاصل کی ہے، جو پاکستان کے کسی بھی منصوبے کے لیے اب تک کی سب سے بڑی مالی معاونت سمجھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے معدنی اور توانائی کے شعبوں میں بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے میدان میں کینیڈا کی تکنیکی مہارت اور جدید تجربہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں کینیڈین ہائی کمشنر نے بھی یقین دہانی کرائی کہ کینیڈا، پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں مزید کینیڈین کمپنیوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے، جبکہ کینیڈا کی وزارتِ قدرتی وسائل پاکستان کے معدنی شعبے کی ترقی کے لیے مکمل تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے بدلتے ہوئے عالمی معاشی اور توانائی کے منظرنامے میں نئے مواقع تلاش کرنے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا، تاکہ دونوں ممالک اس شراکت داری سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کر سکیں۔