اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)بدھ کی دوپہر مونٹریال کے ژاک کارٹیے پل کو جزوی طور پر ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا، جو اس سے چند گھنٹے قبل مونٹریال سائیڈ پر واقع ایک خالی تاریخی عمارت میں شدید آگ لگنے کے باعث مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔
سب سے پہلے مونٹریال سے ساؤتھ شور جانے والی ٹریفک کے لیے پل کی دو لینز کھولی گئیں، جبکہ کچھ ہی دیر بعد ساؤتھ شور سے مونٹریال آنے والی دو لینز بھی بحال کر دی گئیں۔ تاہم، تاحال پل پر موجود ملٹی یوز پاتھ اور فٹ پاتھ دونوں سمتوں میں بند رہے، اس کے علاوہ ڈی لوریمیئر ایونیو ساؤتھ کی جانب جانے والی ایگزٹ لین کو بھی ٹریفک کے لیے نہیں کھولا گیا۔
پل کی مرحلہ وار بحالی کے ساتھ ہی متاثرہ تاریخی عمارت کو منہدم کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا۔ عمارت کے عقب میں نصب دو بڑے بل بورڈز کو بھی حفاظتی خدشات کے پیش نظر گرانے کا فیصلہ کیا گیا، کیونکہ وہ پل اور اردگرد کے علاقے کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں :کیوبیک میں آبادی کی رفتار آدھی رہ گئی،عارضی امیگریشن میں کمی سے مونٹریال شدید متاثر
آتشزدگی کے واقعے کی تفتیش اب مونٹریال پولیس (SPVM) نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ مونٹریال فائر ڈیپارٹمنٹ (SIM) فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آگ لگنے کے وقت عمارت میں کوئی موجود تھا یا نہیں۔ فائر ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان مارٹن گِلبو نے بدھ کی صبح ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکام تیزی اور مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں، تاہم حفاظتی تقاضوں کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہاہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ کام جلد از جلد مکمل ہو، لیکن یہ سب محفوظ طریقے سے کرنا ضروری ہے تاکہ پل کو دوبارہ کھولنے کے بعد کسی ہنگامی صورتحال کے باعث اسے پھر بند نہ کرنا پڑے، مثلاً اگر عمارت کے ملبے میں حرکت ہو جائے یا کوئی اور خطرہ پیدا ہو جائے۔”
ژاک کارٹیے اور شیمپلین برجز انکارپوریٹڈ کی ترجمان نیتھلی لیسارڈ نے بتایا کہ پل کی ساخت کا معائنہ جاری ہے۔ ان کے مطابق خدشہ یہ ہے کہ آگ کی شدت سے پل کا ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جلتی ہوئی عمارت ایک ہیٹر کی طرح شدید حرارت خارج کر رہی تھی، جو ممکنہ طور پر پل کے اسٹرکچر پر اثر انداز ہوئی ہو۔
یہ آگ ڈی لوریمیئر ایونیو اور لوگن اسٹریٹ پر واقع اُس خالی عمارت میں لگی جو پل کے عین نیچے مونٹریال سائیڈ پر موجود ہے۔ فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اس عمارت کو ثقافتی و تاریخی ورثے کا درجہ حاصل تھا۔
اس عمارت کی شناخت تاریخی فامی لیکس (Familex) فیکٹری کے طور پر کی گئی ہے، جو 1910 میں تعمیر کی گئی تھی اور ژاک کارٹیے پل کے مخصوص خم کی وجہ سے خاص شہرت رکھتی تھی۔ ابتدا میں یہ عمارت صابن بنانے والے جوزف بارسالو کی ملکیت تھی، جن کی کمپنی 1935 میں پروکٹر اینڈ گیمبل نے خرید لی۔ بعد ازاں 1943 میں رومیو پیرنٹ کی فارماسیوٹیکل کمپنی فامی لیکس نے اسے حاصل کیا۔ یہ عمارت 1983 تک فامی لیکس کے زیرِ استعمال رہی، پھر مختلف مالکان کے ہاتھوں میں جاتی رہی اور 2019 میں کمپنی کوسولٹیک نے خریدی۔
موجودہ مالکان، برٹون، نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس مقام پر ایک نیا منصوبہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے جس میں اس تاریخی عمارت کو محلے کے لیے محفوظ رکھا جانا شامل تھا، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث یہ منصوبہ عارضی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔
بیان میں ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکام اس واقعے سے متاثر ہونے والے شہریوں، بالخصوص ڈرائیورز کو پیش آنے والی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔