اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور عسکری قیادت کے کردار کا اعتراف سامنے آیا ہے، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک بااختیار چیف آف ڈیفنس فورسز اور جوہری طاقت کے مؤثر نگہبان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ان رپورٹس میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ بھارت میں ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر نفرت اور انتہا پسندی کو ریاستی سطح پر فروغ مل رہا ہے، جو خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارتی ویب سائٹ دی وائر کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی یوتھ سمٹ میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کی تقریر نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اجیت ڈوول نے نوجوانوں کو انتقامی ذہنیت اپنانے کی ترغیب دی، جو نہ صرف بھارتی قومی سلامتی کی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی بڑھا سکتی ہے۔
دی وائر کے مطابق اجیت ڈوول کی پیش کردہ “بدلے کی ڈاکٹرائن” دانستہ طور پر ایسے حالات پیدا کر سکتی ہے جو جنگ چھیڑنے کا جواز بن جائیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ یہی انتقامی سوچ بھارت کی کشمیر پالیسی میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے، جس کے نتیجے میں مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ اور بگڑتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے دفاعی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد نے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جدید بنیادوں پر راکٹ فورس قائم کی ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک ایسی عسکری قیادت کے طور پر ابھرے ہیں جو دفاعی معاملات میں مکمل اختیار اور جوہری صلاحیت کی مؤثر نگرانی رکھتی ہے۔ بھارتی تجزیے کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کو ایک مضبوط اور منظم دفاعی قوت کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔
دی وائر نے آپریشن “سندور” کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس کارروائی نے یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ پاکستان، بھارت کے لیے ایک سنجیدہ، مضبوط اور ناقابلِ نظرانداز حریف ہے۔ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ محاذ آرائی میں پاکستان کی عسکری تیاری اور قیادت بھارت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اجیت ڈوول جیسے اعلیٰ عہدیداروں کی اشتعال انگیز تقاریر بھارت میں شدت پسند عناصر کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھائیں گی، جس سے داخلی انتشار، عدم استحکام اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات کا ایک مقصد بھارت میں اقلیتوں کو درپیش انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوری زوال سے توجہ ہٹانا بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے اس امر پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ بھارت کے متعدد ریاستی ادارے انتہا پسند نظریات کے زیرِ اثر آ چکے ہیں، جو نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک خطرناک رجحان کی علامت ہے۔