اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )غزہ ایک بار پھر عالمی سیاست، سفارت کاری اور انسانی ضمیر کے امتحان کی علامت بن چکا ہے۔
برسوں سے جاری جنگ، محاصرہ، انسانی بحران اور سیاسی تعطل نے اس خطے کو دنیا کے سب سے بڑے انسانی المیوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایسے میں ترکیہ کی جانب سے غزہ میں فوجیوں کی تعیناتی کی پیشکش نہ صرف ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے بلکہ یہ عالمی طاقتوں اور مسلم دنیا کے کردار پر بھی کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا یہ بیان کہ ان کا ملک امن منصوبے کے تحت غزہ میں فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہے، محض ایک رسمی اعلان نہیں بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی حرکیات کا واضح اظہار ہے۔ یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ شدید انسانی بحران، خوراک اور ادویات کی قلت، انفراسٹرکچر کی تباہی اور لاکھوں بے گھر افراد کے مسائل سے دوچار ہے۔
ترکیہ کی یہ پیشکش دراصل دو بڑے پہلو رکھتی ہے۔ پہلا پہلو انسانی ہے، جہاں انقرہ یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ صرف بیانات اور مذمتی قراردادوں تک محدود نہیں بلکہ عملی سطح پر بھی امن کے قیام میں کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ دوسرا پہلو سیاسی اور تزویراتی ہے، جہاں ترکیہ خود کو مسلم دنیا اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک مؤثر اور فعال قوت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ترکیہ نے اپنی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور وسطی ایشیا میں انقرہ نے سفارتی، عسکری اور انسانی امداد کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ غزہ میں فوجی تعیناتی کی پیشکش بھی اسی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ سمجھی جا سکتی ہے، جس کے تحت ترکیہ خود کو نہ صرف ثالث بلکہ عملی امن محافظ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا غزہ میں کسی بین الاقوامی یا کثیر القومی فورس کی تعیناتی واقعی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتی ہے؟ ماضی کے تجربات اس حوالے سے ملا جلا پیغام دیتے ہیں۔ دنیا کے کئی تنازعات میں بین الاقوامی فورسز نے وقتی طور پر تشدد میں کمی ضرور کی، مگر بنیادی سیاسی مسائل کے حل کے بغیر امن عارضی ثابت ہوا۔ غزہ کا مسئلہ بھی محض سکیورٹی کا نہیں بلکہ سیاسی، قانونی اور انسانی حقوق کا ایک پیچیدہ بحران ہے۔
ہاکان فیدان کا یہ کہنا کہ ترکیہ بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انقرہ کسی یکطرفہ فوجی مہم جوئی کے بجائے ایک عالمی فریم ورک کے اندر رہ کر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ یہ نقطہ نہایت اہم ہے، کیونکہ کسی بھی یکطرفہ فوجی اقدام سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔
غزہ کے عوام کے لیے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون سی فوج وہاں تعینات ہوتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ان کی جان و مال کا تحفظ ہوگا؟ کیا انسانی امداد بلا رکاوٹ پہنچ سکے گی؟ کیا اسپتال، اسکول اور بنیادی سہولیات بحال ہو سکیں گی؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا انہیں ایک باوقار اور محفوظ مستقبل میسر آئے گا؟ اگر ترکیہ یا کوئی بھی بین الاقوامی فورس ان بنیادی سوالات کا عملی جواب دینے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ واقعی ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، عالمی طاقتوں کا کردار بھی اس معاملے میں فیصلہ کن ہوگا۔ امریکا، یورپی یونین، روس اور چین جیسے ممالک نہ صرف سفارتی اثر و رسوخ رکھتے ہیں بلکہ وہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر بھی پالیسی سازی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ طاقتیں ترکیہ کی اس پیشکش کو ایک سنجیدہ امن منصوبے کے طور پر سپورٹ کرتی ہیں، تو غزہ کے لیے ایک نیا سفارتی راستہ کھل سکتا ہے۔
مسلم دنیا کے لیے بھی یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے۔ برسوں سے غزہ کے لیے مذمتی بیانات، ہنگامی اجلاس اور علامتی اقدامات تو ہوتے رہے ہیں، مگر عملی اور مؤثر مشترکہ حکمتِ عملی کا فقدان واضح رہا ہے۔ ترکیہ کی پیشکش اگر ایک وسیع تر مسلم یا بین الاقوامی امن فورس کی شکل اختیار کرتی ہے، تو یہ مسلم دنیا کے لیے ایک نیا ماڈل بن سکتا ہے کہ وہ صرف جذباتی نعروں کے بجائے عملی سطح پر بھی کردار ادا کرے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ غزہ کا مسئلہ صرف فوجی تعیناتی سے حل نہیں ہوگا۔ جب تک بنیادی سیاسی تنازع، ریاستی خودمختاری، سرحدوں، اور فلسطینی عوام کے حقوق سے متعلق ٹھوس اور منصفانہ حل سامنے نہیں آتا، اس وقت تک کوئی بھی امن فورس صرف ایک عارضی بندوبست ہی ثابت ہو سکتی ہے۔ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری ایک جامع سیاسی حل کی طرف بڑھے، جس میں فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق دیے جائیں۔
ترکیہ کی پیشکش کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ موقع اس لیے کہ شاید اس کے ذریعے انسانی بحران میں کمی آئے اور امن کے لیے ایک نیا راستہ کھلے۔ امتحان اس لیے کہ اگر یہ قدم محض علامتی ثابت ہوا یا بڑی طاقتوں کے مفادات کی نذر ہو گیا، تو غزہ کے عوام کی امیدوں کو ایک اور دھچکا لگ سکتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ غزہ کا مسئلہ اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ یہ عالمی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ ترکیہ کی پیشکش نے کم از کم اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ دنیا غزہ کے لیے محض تشویش کا اظہار کرے گی یا واقعی عملی اقدامات بھی کرے گی۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ اعلان تاریخ کا ایک اہم موڑ بنتا ہے یا سفارتی بیانات کی طویل فہرست میں ایک اور اضافہ۔