اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کینیڈا ایک مکمل خود مختار ملک ہے
اور وہ اپنی سلامتی، معیشت اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں امریکا پر انحصار نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی ترقی اور شناخت کسی دوسرے ملک کی مرہونِ منت نہیں بلکہ یہ اس کے عوام، اداروں اور جمہوری اقدار کی مرہونِ منت ہے۔اپنے ایک بیان میں وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا امریکا کا ہمسایہ ضرور ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ کینیڈا اپنی خودمختاری یا قومی فیصلوں پر سمجھوتہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اپنی پالیسیوں کا تعین خود کرتا ہے اور مستقبل میں بھی یہ روایت برقرار رہے گی۔
مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے تجارتی، سفارتی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں، جو باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان تعلقات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کینیڈا کسی بھی معاملے میں امریکا کی پیروی کرے یا اس پر انحصار کرے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کینیڈا کی طاقت اس کے مضبوط ادارے، قانون کی بالادستی، متنوع معاشرہ اور باشعور عوام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا اپنی شناخت کے ساتھ ترقی کرتا ہے، نہ کہ کسی اور ملک کے سائے تلے۔
مارک کارنی نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں خودمختاری کا تصور پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی کے طور پر امن، کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قوانین پر یقین رکھتا ہے، اور یہی اس کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔مارک کارنی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کینیڈا عالمی سطح پر امریکا سمیت تمام ممالک کے ساتھ تعاون چاہتا ہے، مگر برابری اور احترام کی بنیاد پر۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کسی بھی دباؤ کے تحت اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعظم مارک کارنی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سیاست میں طاقتور ممالک کی جانب سے چھوٹے یا درمیانے درجے کے ممالک پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ان کے بقول مارک کارنی کا مؤقف کینیڈا کی خارجہ پالیسی میں ایک واضح اور مضبوط پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی سیاست میں خودمختاری ایک ایسا لفظ ہے جسے اکثر طاقتور ممالک اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرتے ہیں، جبکہ نسبتاً کمزور یا درمیانی طاقتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی بڑی طاقت کے دائرۂ اثر میں رہیں۔ ایسے ماحول میں کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کا یہ کہنا کہ ’’کینیڈا امریکا پر انحصار نہیں کرتا‘‘ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک فکری اور سفارتی اعلان ہے۔
کینیڈا اور امریکا کے تعلقات دنیا کے قدیم ترین اور گہرے دوطرفہ تعلقات میں شمار ہوتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ہزاروں کلومیٹر طویل سرحد، اربوں ڈالر کی تجارت، مشترکہ دفاعی معاہدے اور ثقافتی روابط موجود ہیں۔ ناقدین اکثر یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ آیا کینیڈا واقعی امریکا سے آزاد پالیسی اختیار کر سکتا ہے یا نہیں۔ مارک کارنی کا حالیہ بیان اسی سوال کا براہِ راست جواب معلوم ہوتا ہے۔
مارک کارنی دراصل یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ جغرافیائی قربت کا مطلب سیاسی یا فکری تابع داری نہیں ہوتا۔ کینیڈا ایک ایسا ملک ہے جس نے اپنی شناخت خود بنائی ہے۔ اس کی سیاسی تاریخ، سماجی ڈھانچہ اور خارجہ پالیسی ہمیشہ سے امریکا سے مختلف رہی ہے۔ چاہے وہ صحت کا نظام ہو، امیگریشن پالیسی ہو، یا عالمی تنازعات پر مؤقف، کینیڈا نے اکثر اپنے ہمسائے سے مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔
آج کی دنیا میں جہاں تجارتی جنگیں، پابندیاں اور طاقت کے مظاہرے عام ہوتے جا رہے ہیں، خودمختاری کا تصور ایک نئے امتحان سے گزر رہا ہے۔ طاقتور ممالک اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ معاشی یا عسکری طاقت کی بنیاد پر وہ دوسروں کے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ مارک کارنی کا بیان اس سوچ کے خلاف ایک واضح پیغام ہے کہ کینیڈا نہ تو کسی دباؤ میں آئے گا اور نہ ہی اپنی پالیسیوں کا اختیار کسی اور کے ہاتھ میں دے گا۔
یہ بیان اندرونِ ملک سیاست کے لیے بھی اہم ہے۔ کینیڈا ایک متنوع معاشرہ ہے جہاں مختلف طبقات اور قومیتوں کے لوگ آباد ہیں۔ ایسے میں خودمختاری کا بیانیہ قومی اتحاد کو مضبوط کرتا ہے اور عوام کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ان کا ملک اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی یہ مؤقف ایک مثال قائم کرتا ہے۔ بہت سے ممالک جو بڑی طاقتوں کے اثر و رسوخ میں ہیں، وہ کھل کر اپنی خودمختاری کا اعلان نہیں کر پاتے۔ کینیڈا جیسا ترقی یافتہ اور جمہوری ملک اگر واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ وہ امریکا پر انحصار نہیں کرتا، تو یہ عالمی سیاست میں ایک صحت مند بحث کو جنم دیتا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ خودمختاری کا مطلب تنہائی نہیں ہوتا۔ مارک کارنی نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تعاون کس بنیاد پر ہوگا؟ تابع داری پر یا برابری پر؟ کارنی کا مؤقف واضح ہے کہ کینیڈا برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے۔
یہ اداریہ اس نکتے پر بھی زور دیتا ہے کہ خودمختاری صرف بیانات سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ عملی پالیسیوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھا جائے گا کہ کینیڈا تجارتی، دفاعی اور سفارتی معاملات میں کس حد تک آزادانہ فیصلے کرتا ہے۔ اگر یہ فیصلے واقعی قومی مفاد میں اور آزادانہ ہوں، تو مارک کارنی کا بیان تاریخ میں ایک مضبوط موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مارک کارنی کا یہ مؤقف نہ صرف کینیڈا کی سیاسی خوداعتمادی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ دنیا کو یہ یاد دہانی بھی ہے کہ خودمختاری آج بھی ایک زندہ اور قابلِ دفاع تصور ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی نظام دباؤ، مفادات اور طاقت کے توازن پر کھڑا ہے، کینیڈا کا یہ پیغام ایک اصولی اور جرات مندانہ آواز بن کر ابھرتا ہے۔