برطانیہ کا نیٹو کیخلاف متنازع بیان،امریکہ نے مسترد کر دیا

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا نے نیٹو سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع بیان پر برطانیہ کی جانب سے کی جانے والی شدید تنقید کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے مؤقف میں کوئی غلطی نہیں اور امریکا نے نیٹو کے لیے دیگر تمام اتحادی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا اور بھاری قربانیاں دیں۔وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق امریکا نہ صرف نیٹو کا سب سے بڑا مالی معاون ہے بلکہ افغانستان سمیت مختلف جنگی محاذوں پر بھی امریکی افواج نے فرنٹ لائن پر رہ کر نمایاں ذمہ داریاں نبھائیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ نیٹو کی مجموعی دفاعی حکمت عملی میں امریکا کا کردار فیصلہ کن رہا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں نیٹو کے اتحادی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران غیر امریکی نیٹو افواج محاذِ جنگ پر براہِ راست کردار ادا کرنے کے بجائے پیچھے رہیں، جبکہ اصل لڑائی امریکی افواج نے لڑی۔صدر ٹرمپ کے اس بیان پر برطانیہ میں سخت ردعمل سامنے آیا۔ برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے امریکی صدر کے مؤقف کو ’’مضحکہ خیز، خطرناک اور توہین آمیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں برطانوی افواج سمیت نیٹو کے دیگر ممالک نے بھاری جانی و مالی قربانیاں دیں، جنہیں کم تر دکھانا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ سے اپنے بیان پر باقاعدہ معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔
برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈینوک نے بھی امریکی صدر کے بیان کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے ’’فضول بکواس‘‘ قرار دیا اور کہا کہ نیٹو اتحادیوں کی قربانیوں کو جھٹلانا تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔اس معاملے پر امریکا میں مقیم برطانوی شہزادہ ہیری نے بھی ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں نیٹو افواج، بشمول برطانوی فوج، نے جو قربانیاں دیں وہ احترام اور اعتراف کی مستحق ہیں اور اتحادیوں کے درمیان باہمی احترام ہی نیٹو کی اصل طاقت ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق نیٹو پر اس قسم کے بیانات نہ صرف اتحادی ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں دفاعی تعاون پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم امریکا کا مؤقف ہے کہ وہ نیٹو میں اپنی قیادت اور قربانیوں کے اعتراف کا مطالبہ کرتا رہے گا۔

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں