اردوورلڈ کینیڈا( ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے
کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ کسی بھی نوعیت کا تجارتی معاہدہ کیا تو امریکا اس پر بھاری محصولات عائد کرے گا۔ امریکی صدر کے مطابق کینیڈا پر سو فیصد تک ٹیرف لگانے کا آپشن زیر غور ہے، اگر اس نے امریکی مفادات کے خلاف کوئی قدم اٹھایا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کے نتیجے میں کینیڈا کو ایک ایسے راستے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں سے چینی مصنوعات امریکا میں داخل ہوں، اور امریکا ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا کو امریکا کے لیے چینی اشیا کی ’’ڈراپ پورٹ‘‘ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔امریکی صدر نے کہا کہ عالمی تجارتی اصولوں کی خلاف ورزی اور امریکا کے معاشی مفادات کو نظرانداز کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق اگر کینیڈا نے ایسے اقدامات کیے تو امریکا سخت اور فوری ردعمل دے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا اپنی مارکیٹ، صنعت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ٹرمپ کے اس بیان نے چین اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی تعلقات پر عالمی سطح پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے واقعی کینیڈا پر بھاری ٹیرف عائد کیے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے شمالی امریکا کے تجارتی ڈھانچے پر پڑ سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس قسم کی سخت پالیسیوں سے سپلائی چین متاثر ہونے، مہنگائی میں اضافے اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر کے حالیہ بیان کے بعد امریکا اور کینیڈا کے کاروباری اور اقتصادی حلقوں میں تشویش کی فضا دیکھی جا رہی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید کشیدگی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔