کیلگری،ڈاکٹر پر بیٹے کے اغوا کا الزام،خیراتی تنظیم کی مدد سے بچہ دو سال بعد ماں سے مل گیا

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کیلگری کی عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ایک مقامی ڈاکٹر، محمد ضیاء الرحمٰن، جس پر اپنے کم عمر بیٹے کے اغوا کا الزام ہے

ملک چھوڑنے سے قبل حکام کے 1.6 ملین ڈالر کے مالی مطالبات کے شدید دباؤ میں تھا۔ عدالت میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ فرار کے دوران ملزم نے بچے کو ماں سے نفرت کرنے کی تربیت دی، جس کے اثرات اب بھی سامنے آ رہے ہیں۔
62 سالہ محمد ضیاء الرحمٰن پر والدین کے اغوا کا مقدمہ درج ہے۔ الزام ہے کہ اس نے دسمبر 2023 میں اپنے پانچ سالہ بیٹے کو اغوا کیا، جس کے بعد باپ اور بیٹے کی تلاش عالمی سطح پر دو سال تک جاری رہی۔ گزشتہ ماہ ضیاء الرحمٰن کو ماریشس کے ایک ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا، جو مدغاسکر کے مشرق میں واقع ایک جزیرہ ہے، جبکہ 17 جنوری کو اسے کیلگری منتقل کیا گیا۔پولیس کے مطابق بچہ، جو اب سات سال کا ہے، کرسمس سے کچھ دن قبل اپنی ماں کے پاس واپس پہنچ گیا۔ اغوا شدہ بچے کی واپسی میں خیراتی تنظیم EVE نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کی مدد سے ماں اور بیٹے کی دوبارہ ملاقات ممکن ہو سکی۔
جمعہ کے روز ضمانت کی سماعت کے دوران کراؤن پراسیکیوٹر کولن شولہاؤزر نے عدالت کو بتایا کہ ماں اور بچے کی دوبارہ ملاقات آسان نہیں رہی۔ ان کے مطابق بچہ طویل عرصے تک ماں سے دور رہنے اور منفی ذہن سازی کے باعث جذباتی طور پر الگ ہو چکا تھا، اور دوبارہ تعلق قائم کرنے کا عمل خاصا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔عدالت میں بتایا گیا کہ ضیاء الرحمٰن نے مبینہ طور پر اغوا کی منصوبہ بندی بہت پہلے شروع کر دی تھی، جس میں جعلی سفری دستاویزات کی تیاری، بیرون ملک جائیداد کی خریداری اور بچے کے لیے نئی شناخت بنانے کی کوشش شامل تھی۔

مالی ریکارڈز کے مطابق جون اور جولائی 2022 کے دوران 561,000 امریکی ڈالر سے زائد رقم منتقل کی گئی، جبکہ تقریباً 3 ملین ترک لیرا بھی ترکی بھجوائی گئی۔تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ والد اور بیٹا پہلے ترکی گئے، جس کے بعد وہ ایشیا اور جنوبی بحرالکاہل کے مختلف ممالک میں سفر کرتے رہے، جن میں روس، آذربائیجان اور وانوواتو شامل ہیں۔پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ ضیاء الرحمٰن پر الزام ہے کہ اس نے البرٹا ہEیلتھ سے 1.6 ملین ڈالر کی زائد ادائیگی وصول کی۔ ان کے مطابق ملزم کے پاس متعدد شہریتیں ہیں، ایسے ممالک میں جہاں سے کینیڈا کے ساتھ حوالگی کے معاہدے موجود نہیں، اور اگر اسے سزا ہوئی تو اسے طویل قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملزم کے کینیڈا میں نہ قریبی رشتے دار ہیں اور نہ ہی کوئی مضبوط سماجی تعلق۔

اس کیس کی تفتیش میں آر سی ایم پی، گلوبل افیئرز کینیڈا، کینیڈین سینٹرل اتھارٹی اور انٹرپول سمیت کئی اداروں نے تعاون کیا۔ انٹرپول کی جانب سے جاری کیے گئے بین الاقوامی الرٹس ہی بالآخر گرفتاری کا سبب بنے۔دوسری جانب، ضیاء الرحمٰن کے وکیل لکھوندر سندھو نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے کینیڈا واپس آنے میں کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی اور ان کا ماننا تھا کہ انہیں اپنے بیٹے کے ساتھ بیرون ملک سفر کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ وکیل کے مطابق یہ مقدمہ بالآخر ایک فریق کے بیان کے مقابل دوسرے فریق کے بیان تک محدود رہے گا۔عدالت نے ضمانت سے متعلق فیصلہ پیر کے روز سنانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، اس مرحلے پر عدالت میں پیش کیے گئے الزامات کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں