اردو ورلڈ کینیڈدا ( ویب نیوز ) دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیکنالوجی کی دنیا کے نمایاں نام ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل سے متعلق ایسی پیش گوئیاں کر دی ہیں
جنہوں نے ماہرین اور عام افراد دونوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی رفتار اس قدر تیز ہو چکی ہے کہ 2026 کے اختتام تک یہ انسانوں سے زیادہ ذہین ہو سکتی ہے۔ایلون مسک کا کہنا تھا کہ اگرچہ طویل مدتی مستقبل کے بارے میں مکمل یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں، تاہم موجودہ پیشرفت واضح اشارہ دے رہی ہے کہ اے آئی بہت جلد انسانی ذہانت کی حد عبور کر لے گی۔ ان کے مطابق صرف چند برسوں میں ٹیکنالوجی وہ کام انجام دے سکے گی جو آج صرف انسانی ذہانت سے منسوب کیے جاتے ہیں۔
مسک نے مزید دعویٰ کیا کہ اگلے پانچ سالوں کے اندر، یعنی 2030 یا 2031 تک، اے آئی ٹیکنالوجی دنیا بھر کے تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی آگے نکل جائے گی۔ ان کے بقول جس رفتار سے الگورتھمز، کمپیوٹنگ پاور اور ڈیٹا میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کے بعد انسانی برتری برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کی پیش گوئی نہیں کر سکتے کہ دس سال بعد دنیا کیسی ہو گی، مگر ان کے خیال میں رواں برس کے اختتام تک ہی اے آئی کسی بھی فرد سے زیادہ ذہین ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ بیان نہ صرف ٹیکنالوجی کے مستقبل بلکہ انسانی کردار پر بھی کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ایلون مسک نے اے آئی اور روبوٹکس کو مستقبل کی معیشت کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں شعبوں کے امتزاج سے عالمی معیشت میں غیر معمولی وسعت آئے گی۔ ان کے مطابق انسان نما روبوٹس بہت جلد روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں گے اور عام افراد ان سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اگر تمام منصوبے درست سمت میں آگے بڑھے تو اگلے برس کے اختتام تک انسان نما روبوٹس عام صارفین کے لیے فروخت کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ روبوٹس اے آئی کی مدد سے انسانی ضروریات پوری کریں گے اور کئی شعبوں میں انسانوں کی جگہ لیتے دکھائی دیں گے۔ایلون مسک کی پیش گوئی کے مطابق ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب دنیا میں انسانوں کے مقابلے میں روبوٹس کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔ ان کے بقول اس تبدیلی کے نتیجے میں انسانی محنت کی طلب میں کمی آئے گی اور روبوٹس کو اپنانا ہر فرد کے لیے ناگزیر بن جائے گا۔خطاب کے اختتام پر ایلون مسک نے کہا کہ ٹیسلا، اسپیس ایکس اور اسٹار لنک کا بنیادی مقصد انسانیت کے مستقبل کو بہتر بنانا ہے، تاکہ ٹیکنالوجی انسان کے لیے خطرہ نہیں بلکہ سہولت اور ترقی کا ذریعہ بنے۔