عدالت خاتون کی رضامندی کے بغیر طلاق کو خلع میں تبدیل نہیں کرے گی ،سپریم کورٹ کافیصلہ

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)سپریم کورٹ نے خلع کے حوالے سے ایک اہم قانونی اصول واضح کر دیا ہے، جس کے تحت عدالت کسی بھی صورت میں خاتون کی رضامندی کے بغیر طلاق کے دعویٰ کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سنایا، جس میں عدالتی تشریح کے ساتھ طلاق اور خلع کے قانونی دائرہ کار کو واضح کیا گیا۔

فیصلے کے مطابق، عدالت از خود طلاق کے دعویٰ کو خلع میں تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ صرف خاتون کی صریح رضامندی پر ہی طلاق کے معاملے کو خلع میں بدلا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان عدالتوں کی قانونی تشخیص غلط تھی۔ جسٹس مسرت ہلالی نے اس فیصلے کا پانچ صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا۔

درخواست گزار نائلہ جاوید نے عدالت سے شادی ختم کرنے کی درخواست دائر کی تھی، جس میں انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم اور قانونی جبر کی بنیادیں پیش کیں۔ تاہم، فیملی کورٹ نے اس مقدمے کو خلع کے تحت نمٹا دیا اور خاتون کو بقایا حق مہر کی ادائیگی کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ نے یہ واضح کیا کہ چونکہ خاتون نے خلع نہیں مانگا تھا، لہٰذا عدالت اس کی اجازت کے بغیر طلاق کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شوہر ناصر خان نے مقدمے کے دوران دوسری شادی کی، جو مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے سیکشن 6 کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس کے لیے نہ حکومت کی اجازت تھی اور نہ ہی آربیٹریشن کونسل کی منظوری حاصل کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں، شوہر نے اپنی سابقہ بیوی کو نان نفقہ فراہم نہیں کیا۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران خاتون کی کردار کشی کی گئی، اور یہ تمام عوامل قانونی طور پر ظلم کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان حالات میں خاتون کا شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار کرنا نافرمانی کے زمرے میں نہیں آتا، اور عدالت نے خاتون کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں