یرغمالیوں کا باب بند، امن کی شرطیں مانیں یا نتائج کیلئے تیار ہو جائیں ، اسرائیل کی دھمکی

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات بھی برآمد کر لی گئی ہیں

جس کے بعد یرغمالیوں سے متعلق ایک طویل، تکلیف دہ اور جذباتی باب اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی جنگ بندی کا پہلا مرحلہ باضابطہ طور پر مکمل ہو گیا ہے، تاہم آئندہ مرحلے کو کہیں زیادہ مشکل اور حساس قرار دیا جا رہا ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق پولیس اہلکار ران گویلی کی باقیات شمالی غزہ کے ایک قبرستان سے برآمد ہوئیں۔ ران گویلی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے اور تب سے ان کا شمار یرغمالیوں میں کیا جا رہا تھا۔ باقیات کی شناخت مکمل قانونی اور سیکیورٹی مراحل کے بعد کی گئی۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس کارروائی کو سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یرغمالیوں کی واپسی جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا بنیادی مقصد تھا، جو اب پورا ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اس پیش رفت سے جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہوئی ہے، جس میں انسانی امداد، سرحدی نقل و حرکت اور غزہ کی بحالی سے متعلق اقدامات شامل ہوں گے۔ران گویلی کا تابوت جب اسرائیل منتقل کیا گیا تو فضا سوگوار ہو گئی۔ فوجی اہلکاروں، اہلِ خانہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں لوگ سڑکوں کے کنارے قطاروں میں کھڑے ہو گئے اور تابوت کے گزرنے کے دوران مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی، جس نے اس سانحے کی شدت کو مزید نمایاں کر دیا۔
دوسری جانب غزہ کے فلسطینیوں کو امید ہے کہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے میں غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کھلنے سے صورتحال میں کچھ بہتری آئے گی۔ رفح کراسنگ کے ذریعے زخمیوں کے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے اور خوراک، ادویات اور ایندھن سمیت امدادی سامان کی ترسیل میں آسانی متوقع ہے۔اقوام متحدہ کے اداروں نے بتایا ہے کہ مصر میں پہلے ہی بڑی مقدار میں انسانی امداد ذخیرہ کی جا چکی ہے، جو سرحد کھلتے ہی غزہ منتقل کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں تمام یرغمالیوں کی واپسی طے تھی، جسے اب مکمل کر لیا گیا ہے۔ تاہم دوسرے مرحلے میں نہایت پیچیدہ اور متنازع امور شامل ہیں، جن میں غزہ کی مستقبل کی حکومت، حماس کے ہتھیار ڈالنے کا معاملہ اور اسرائیلی افواج کا مکمل یا جزوی انخلا شامل ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہی وہ نکات ہیں جو جنگ بندی کو ایک نازک موڑ پر لے آئے ہیں اور کسی بھی تعطل کی صورت میں حالات دوبارہ کشیدہ ہو سکتے ہیں۔عالمی برادری اس پیش رفت کو ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ جنگ بندی کے آئندہ مرحلے میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف غزہ بلکہ پورے خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں