اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا کی اپوزیشن نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) نے پریمیئر اور ان کی جماعت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبے میں بڑھتی ہوئی علیحدگی پسند تحریک کی کھل کر اور غیر مبہم انداز میں مذمت کریں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پیر کے روز کیلگری میں بڑی تعداد میں لوگ ایک پٹیشن پر دستخط کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔
این ڈی پی کے سربراہ نہید ننشی کا کہنا ہے کہ وہ ہر رکنِ صوبائی اسمبلی (ایم ایل اے) کو خط لکھیں گے اور ان سے مطالبہ کریں گے کہ وہ علیحدگی پسندی کی مذمت کریں اور اپنے حلقوں میں اپنے مؤقف کو واضح طور پر عوام کے سامنے رکھیں۔
پیر کے روز بات کرتے ہوئے نہید ننشی نے کہا،ہمیں ایسی حکومت چاہیے جو کینیڈا میں ہمارے مقام کو مضبوط کرے اور ہمارے معاشی مستقبل کا تحفظ کرے۔ ہم وزیرِاعلیٰ، یو سی پی حکومت اور ہر ایم ایل اے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ البرٹنز کو صاف صاف بتائیں: کیا آپ ٹیم کینیڈا کے ساتھ ہیں یا آپ علیحدگی پسند ہیں؟”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پیر کے روز اسٹیمپیڈ گراؤنڈز میں واقع بگ فور روڈ ہاؤس کے باہر سینکڑوں افراد قطاروں میں کھڑے تھے، جہاں “اسٹے فری البرٹا” نامی ایک آزادی پسند گروپ کینیڈا سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کرانے کی پٹیشن پر دستخط جمع کر رہا تھا۔ یہ سرگرمی وفاقی حکومت سے طویل عرصے سے موجود ناراضی کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔
البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے ہفتے کے روز کورس ریڈیو کے کال اِن شو یور پروونس، یور پریمیئر میں کہا کہ وہ دستخط جمع کرنے کے عمل کو مکمل ہونے دینا چاہتی ہیں۔
ادھر امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس بیان کے بعد کہ ان کے خیال میں زیادہ تر البرٹنز علیحدگی چاہتے ہیں اور “وہ وہی چاہتے ہیں جو امریکہ کے پاس ہے”، پٹیشن کے بانی مچ سلویسٹر اور وزیرِاعلیٰ اسمتھ دونوں نے واضح کیا کہ امریکہ میں شمولیت کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ اسمتھ کا کہنا تھا کہ وہ “ایک متحد کینیڈا کے اندر ایک مضبوط اور خودمختار البرٹا” کی حامی ہیں۔
تاہم نہید ننشی نے پیر کے روز اسمتھ کے الفاظ کے انتخاب پر تنقید کرتے ہوئے ان پر الزام لگایا کہ وہ دونوں طرف کھیل رہی ہیں۔
ننشی نے کہا،ہمیں آپ کے لفظوں کا گورکھ دھندا نہیں چاہیے۔ البرٹنز اتنے سمجھدار ہیں کہ وہ ایک ہی بات جاننا چاہتے ہیں: کیا آپ علیحدگی پسند ہیں یا نہیں؟”
2026 کے آغاز کے قریب جاری ہونے والے ایک حالیہ اِپسوس سروے کے مطابق صرف 28 فیصد البرٹنز صوبے کی علیحدگی کی حمایت کرتے ہیں، اور ان میں سے بھی تقریباً نصف اس حمایت پر اس وقت قائم رہتے ہیں جب انہیں علیحدگی کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:البرٹا نے علیحدگی سمیت ہر ریفرنڈم کو آسان بنانے کے لیے قانون بدل دیا
علیحدگی کی سب سے زیادہ حمایت 18 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں دیکھی گئی (29 فیصد)، جبکہ 55 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں سب سے زیادہ تعداد نے علیحدگی کی مخالفت کی (69 فیصد)۔
تاہم کینیڈین کنٹری گلوکار پال برینڈٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کو کچھ حلقوں میں حمایت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ برینڈٹ نے ہفتے کے روز اپنی تصویر شیئر کی جس پر ان کے گانے “البرٹا باؤنڈ” کے بول درج تھے، جن میں “میرے رگ و پے میں آزادی دوڑتی ہے” کے الفاظ کو نمایاں فونٹ میں دکھایا گیا تھا۔
اگرچہ پال برینڈٹ نے اس پوسٹ کی وضاحت نہیں کی، لیکن تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے مداحوں میں اس حوالے سے واضح تقسیم پائی جاتی ہے: کچھ لوگ اس کی تعریف کر رہے ہیں جبکہ دیگر اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب یو سی پی اور این ڈی پی کے ارکان پہلے ہی اس بات کی منظوری دے چکے ہیں کہ الیکشنز البرٹا کو رواں سال ممکنہ ریفرنڈم کی تیاری کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں۔ تاہم یہ اب تک واضح نہیں کہ بیلٹ پیپر پر کون سا سوال شامل ہوگا: کینیڈا سے علیحدگی کا یا کینیڈا میں رہنے کا۔
مچ سلویسٹر کے وکیل جیفری راتھ اور تھامس لوکازک—جنہوں نے کینیڈا میں رہنے کے حق میں 4 لاکھ سے زائد دستخط جمع کیے—دونوں کا ماننا ہے کہ وزیرِاعلیٰ اسمتھ غالباً علیحدگی پسندوں کی جانب سے پیش کیے گئے سوال ہی کو ریفرنڈم میں شامل کریں گی۔