عالمی بے یقینی کے باعث سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

ارد و ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز ) عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، معاشی بے یقینی اور کرنسی مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ کے باعث سونے کی قیمت نے تاریخ رقم کر دی ہے۔

پیر کے روز عالمی منڈی میں سونا پہلی بار 5 ہزار امریکی ڈالر فی اونس کی سطح عبور کر گیا، جبکہ چاندی کی قیمت بھی تیزی سے بڑھتے ہوئے 110 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی۔ ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں سرمایہ کار غیر محفوظ اور غیر مستحکم مارکیٹس سے نکل کر سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ترجیح دے رہے ہیں۔ یہی رجحان سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا باعث بنا ہے۔کیپیٹل ڈاٹ کام کی سینئر مارکیٹ اینالسٹ ڈینیئلا ہیتھورن کا کہنا ہے کہ جب تک مالیاتی دباؤ، جغرافیائی تقسیم اور مرکزی بینکوں کی ساکھ پر سوالات برقرار رہیں گے، اس وقت تک قیمتی دھاتیں صرف ہیج نہیں بلکہ متبادل اثاثوں کے طور پر مرکزی حیثیت رکھیں گی۔
امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں چار ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ پیر کے روز ڈالر 153.88 ین تک گر گیا، جبکہ گزشتہ ہفتے یہ شرح تقریباً 158 ین تھی۔ جاپان اور امریکا کے حکام کی جانب سے کرنسی مارکیٹ میں ممکنہ مداخلت کے اشاروں کے بعد ین میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔اگرچہ جاپانی حکام نے براہِ راست مداخلت کی تصدیق نہیں کی، تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ امریکا کے ساتھ کرنسی اتار چڑھاؤ پر قریبی رابطہ قائم ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف مداخلت کی خبروں نے ہی مارکیٹ کا رخ بدل دیا۔
جاپان کی وزیر اعظم سنے تاکائچی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ین شدید دباؤ میں رہا ہے۔ فروری میں متوقع قبل از وقت انتخابات سے قبل حکومتی اخراجات بڑھانے اور ٹیکسوں میں کمی کے اعلانات نے جاپان کے مالیاتی مستقبل پر خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ادھر جاپان کے سرکاری بانڈز کی پیداوار تاریخی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ بینک آف جاپان مہنگائی پر قابو پانے کیلئے بتدریج شرح سود میں اضافہ کر رہا ہے۔ ین کی مضبوطی کے باعث جاپان کا نکیئی انڈیکس 1.75 فیصد گر گیا۔
ڈالر کی مجموعی کمزوری اور عالمی کرنسی مارکیٹس میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کے باعث سونے میں سرمایہ کاری کا نیا سیلاب آیا۔ سونے کی قیمت 2.1 فیصد اضافے کے ساتھ 5,089 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ جنوری میں مجموعی اضافہ 17 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ چاندی بھی اس ماہ 50 فیصد سے زائد مہنگی ہو چکی ہے۔دائیوا کیپیٹل مارکیٹس کے ماہرِ معاشیات کرس اسکیلونہ کے مطابق مرکزی بینکوں کی جانب سے ذخائر میں تنوع اور امریکی معیشت سے سرمایہ نکالنے کا رجحان سونے کی قیمت کو مزید سہارا دے رہا ہے۔عالمی اسٹاک مارکیٹس میں پیر کے روز مجموعی طور پر مندی دیکھی گئی۔ فرانس کا CAC 40 اور برطانیہ کا FTSE 100 معمولی کمی کا شکار رہے، جبکہ جرمنی کا DAX معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

امریکا میں تاہم مارکیٹس نے مثبت آغاز کیا۔ ایس اینڈ پی 500 میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، ڈاؤ جونز 192 پوائنٹس اوپر گیا جبکہ نیسڈیک میں بھی ہلکی بہتری دیکھی گئی۔ایشیا میں جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.8 فیصد گر گیا، چین اور ہانگ کانگ کی مارکیٹس میں بھی ملا جلا رجحان رہا، جبکہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، بھارت اور انڈونیشیا میں مارکیٹس بند رہیں۔سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ تجارتی بیانات پر بھی مرکوز ہیں۔ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کینیڈا سے درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی، جس سے مارکیٹس میں ایک بار پھر بے چینی پھیل گٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کیا تو سخت اقدامات کیے جائیں گے، تاہم کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ ایسے کسی معاہدے کا کوئی ارادہ نہیں۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں