وزیراعظم مارک کارنی کا جی ایس ٹی کریڈٹ میں 25 فیصد اضافے کا فیصلہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیراعظم مارک کارنی نے پیر کے روز کم آمدنی والے صارفین کو مہنگی ہوتی اشیائے خورونوش کے بوجھ سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے جی ایس ٹی کریڈٹ میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔

اس عارضی اضافے کو “کینیڈا گروسریز اینڈ ایسینشلز بینیفٹ” کا نام دیا گیا ہے، جو رواں سال جولائی سے نافذ ہوگا اور پانچ سال تک جاری رہے گا۔وفاقی حکومت اس سال جی ایس ٹی کریڈٹ کی مالیت کے برابر 50 فیصد کی ایک مرتبہ ادائیگی بھی کرے گی۔

حکومت کے مطابق چار افراد پر مشتمل اہل خاندان کو اس سال مجموعی طور پر 1,890 ڈالر تک ملیں گے، جبکہ اگلے چار برسوں میں انہیں سالانہ تقریباً 1,400 ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ اسی طرح ایک اکیلا فرد اس سال 950 ڈالر تک اور آئندہ چار برسوں میں سالانہ تقریباً 700 ڈالر حاصل کر سکے گا۔

موجودہ جی ایس ٹی کریڈٹ سہ ماہی بنیادوں پر ادا کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد کم اور درمیانی آمدنی والے خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ اندازہ ہے کہ 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد کینیڈین اس نئے بینیفٹ کے اہل ہوں گے۔

وزیراعظم کارنی نے یہ اعلان اوٹاوا کے ایک گروسری اسٹور میں اس وقت کیا جب ارکانِ پارلیمنٹ سرمائی تعطیلات کے بعد ہاؤس آف کامنز میں واپس آئے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بنیادی ضروریات کی قیمتیں “کافی عرصے سے حد سے زیادہ بلند” ہیں اور بہت سے کینیڈین روزانہ کی بنیاد پر مالی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔

کارنی کے مطابق مہنگائی کی بڑی وجوہات میں وبا کے بعد معیشت پر پڑنے والے اثرات، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی تجارتی جنگ کے باعث سپلائی چین میں پیدا ہونے والے مسائل، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے دیگر عوامل شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کریڈٹ میں اضافہ خاص طور پر کم آمدنی والے کینیڈینز کے لیے مددگار ثابت ہوگا، کیونکہ وہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں، اور وبا کے بعد گروسری کی بڑھتی قیمتوں کا سب سے زیادہ اثر انہی پر پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :وفاقی حکومت کی دو ماہ کی جی ایس ٹی تعطیلات شروع ہونے پر کینیڈین کا ملاجلا رد عمل

مارک کارنی نے کہاجی ایس ٹی کریڈٹ نے ہمارے ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بنانے میں مدد دی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے کم آمدنی والے کینیڈینز کو وفاقی سیلز ٹیکس کا ایک حصہ واپس ملتا ہے، اور انہیں چیک آؤٹ پر اضافی اخراجات کا بوجھ کم محسوس ہوتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا،خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ان میں سے بہت سے کینیڈینز کو اس وقت مزید مدد کی ضرورت ہے۔”

وفاقی حکومت کے مطابق جی ایس ٹی کریڈٹ میں اس اضافے پر پہلے سال تقریباً 3.1 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ آنے والے برسوں میں اخراجات کم لیکن بتدریج بڑھتے جائیں گے۔ پیر کے روز ڈیسجارڈنز کی جانب سے جاری کردہ ایک تجزیے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ پانچ سال کے دوران اس اقدام کی مجموعی لاگت 10.5 ارب ڈالر ہوگی۔

حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 650 ملین ڈالر مختص کرے گی تاکہ کاروباری اداروں کو سپلائی چین میں آنے والے نقصانات سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے، تاکہ یہ اضافی اخراجات صارفین پر منتقل نہ کیے جائیں۔

اس کے علاوہ لبرلز خوراک کی پیداوار میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کاروباروں کو نئے گرین ہاؤسز کی لاگت فوری طور پر ٹیکس میں ظاہر کرنے کی اجازت دینے کی بھی تجویز دے رہے ہیں۔اوٹاوا مقامی فوڈ انفراسٹرکچر فنڈ کے لیے 20 ملین ڈالر بھی فراہم کرے گا تاکہ فوڈ بینکس پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

وزیراعظم کارنی نے کہا کہ لبرل حکومت گروسری اسٹورز میں یونٹ پرائس لیبلنگ متعارف کرانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے، جس کے تحت اشیا کی قیمت وزن یا کسی معیاری پیمانے کے مطابق ظاہر کی جائے گی، تاکہ “شرنک فلیشن” (یعنی قیمت وہی لیکن مقدار کم) جیسے رجحان سے نمٹا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسابقت بڑھانے کے لیے کمپٹیشن بیورو کو مزید اختیارات دینے کا بھی منصوبہ ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں