اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران نے خلیج فارس کی انتہائی اہم اور حساس سمندری گذرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب فضائی حدود میں لائیو فائر فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے
جس کے تحت متعلقہ فضائی حدود کیلئے نوٹس ٹو ایئرمین (نوٹم) بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ایرانی حکام کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق یہ فوجی مشقیں 27 جنوری سے 29 جنوری تک جاری رہیں گی، جو پانچ ناٹیکل میل کے دائرہ کار میں انجام دی جائیں گی۔ مشقوں کے دوران زمین کی سطح سے لے کر 25 ہزار فٹ کی بلندی تک فضائی حدود کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث کمرشل اور دیگر پروازوں پر عارضی پابندیاں عائد رہیں گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی اثاثے مشرقِ وسطیٰ میں پہنچ چکے ہیں، جس سے خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے لائیو فائر مشقوں کا فیصلہ ایک واضح اسٹریٹجک پیغام تصور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ اور ممکنہ خطرات کے خلاف تیاری ظاہر کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کیلئے ایک کلیدی سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے روزانہ دنیا کے مختلف ممالک کو لاکھوں بیرل خام تیل اور گیس منتقل کی جاتی ہے۔ کسی بھی قسم کی فوجی سرگرمی یا فضائی و بحری پابندی عالمی منڈیوں پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
فضائی ماہرین کے مطابق نوٹم کے اجرا کے بعد متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے متبادل فضائی راستوں پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ مسافروں اور طیاروں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ خطے میں موجود تجارتی اور مسافر بردار جہازوں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہیں، جبکہ آئندہ چند روز خطے کی صورتحال کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔