اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی
کے بعد ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ اور مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی عسکری موجودگی میں اضافے کے بعد ایران کی پالیسی میں واضح تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔امریکی ویب سائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ موجودہ صورتحال غیر یقینی ہے، تاہم امریکا نے خطے میں ایک بڑی فوجی قوت تعینات کر دی ہے، جس کے باعث ایران دباؤ میں آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب موجود ہے اور اس کی عسکری طاقت وینزویلا میں استعمال ہونے والی امریکی فوجی قوت سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی ٹیم کی جانب سے پیش کیے گئے ممکنہ عسکری یا سفارتی آپشنز پر تفصیل سے بات کرنے سے گریز کیا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ سفارتکاری اب بھی امریکا کے لیے ایک کھلا آپشن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ماضی میں بھی متعدد مرتبہ امریکا سے رابطہ کر چکا ہے اور حالیہ فوجی تعیناتی کے بعد ایران معاہدہ کرنے میں سنجیدہ نظر آ رہا ہے۔دوسری جانب ایک سینئر امریکی عہدیدار نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہے۔ عہدیدار کے مطابق اگر ایران امریکا سے رابطہ کرتا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے طے شدہ شرائط کو تسلیم کرتا ہے تو امریکا بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے آمادہ ہوگا۔
امریکی عہدیدار نے مزید انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران امریکا اپنی شرائط متعدد مرتبہ ایران تک پہنچا چکا ہے، تاہم تہران کی جانب سے اب تک کوئی حتمی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔یاد رہے کہ ائیرکرافٹ کیریئر **ابراہم لنکن** سمیت دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل امریکی بحری بیڑہ حال ہی میں مشرقِ وسطیٰ پہنچا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق اس بحری بیڑے کی تعیناتی سے خطے میں امریکا کی عسکری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا مقصد علاقائی سلامتی کو یقینی بنانا اور امریکی مفادات کا تحفظ ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی بحری بیڑے کی خطے میں موجودگی اور ایران کے ممکنہ مذاکراتی اشارے مشرقِ وسطیٰ کی آئندہ سیاسی اور عسکری صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، جبکہ آنے والے دن اس حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔