اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)البرٹا اس وقت اپنی تاریخ کے خطرناک ترین فلو سیزنز میں سے ایک سے گزر رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ سیزن اب تک کے تمام ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔ صوبے میں رواں فلو سیزن کے دوران اب تک 197 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس کے بعد یہ 2009 کے بعد سے ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار میں دوسرا مہلک ترین فلو سیزن بن چکا ہے۔
اب تک سب سے زیادہ اموات کا ریکارڈ 2024-25 کے موسمِ سرما میں قائم ہوا تھا، جب فلو کے باعث 236 اموات رپورٹ ہوئیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال دیکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ رواں سیزن یہ ریکارڈ بھی توڑ دے، کیونکہ فلو سیزن کے ختم ہونے میں ابھی چند ماہ باقی ہیں۔ اس سے قبل 2023-24 کے سیزن میں 171 جبکہ 2022-23 میں 121 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔
یونیورسٹی آف کیلگری کے شعبہ مائیکرو بایالوجی، امیونولوجی اور متعدی امراض کے پروفیسر کریگ جین نے سی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو اموات کی تعداد پچھلے تمام ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اسپتالوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور طبی نظام شدید دباؤ میں ہے۔
جنوری کے وسط تک دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، 370 سے زائد البرٹنز اس وقت فلو کے باعث اسپتالوں میں داخل ہیں، جن میں سے 26 مریض انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) میں زیرِ علاج ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ فلو نہ صرف زیادہ پھیل رہا ہے بلکہ شدید نوعیت اختیار کر رہا ہے۔
البرٹا کی چیف میڈیکل آفیسر آف ہیلتھ ڈاکٹر ویوین سٹورپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ رواں فلو سیزن کئی حوالوں سے “منفرد” ہے۔ ان کے مطابق اس سال انفلوئنزا اے کی قسم H3N2 زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آئی ہے، جو پیشگی اندازوں سے کچھ مختلف ثابت ہوئی۔ اگرچہ انہوں نے بتایا کہ ٹیسٹ پازیٹیویٹی ریٹس اور کیسز کی مجموعی تعداد میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے اور اسپتالوں میں داخل ہونے والے نئے مریضوں کی تعداد بھی بتدریج کم ہو رہی ہے، تاہم خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں :فلو سیزن میں البرٹن کو ماسک پہننا چاہیے،البرٹا کے نئے چیف میڈیکل آفیسر کا بیان
ڈاکٹر سٹورپ کے مطابق فلو کا عروج شاید گزر چکا ہو، لیکن وائرس آئندہ کئی ماہ تک گردش کرتا رہے گا، جس کے نتیجے میں سنگین کیسز سامنے آنے کا خدشہ برقرار ہے۔ ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ہر پانچ میں سے صرف ایک البرٹن نے فلو ویکسین لگوائی ہے، جو حالیہ برسوں میں سب سے کم شرحوں میں سے ایک ہے۔ ویکسینیشن کی کم شرح کے باعث زیادہ افراد نمونیا جیسی ثانوی انفیکشنز کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ رہے ہیں۔
ماہرین صحت عوام پر زور دے رہے ہیں کہ وہ فلو کو معمولی بیماری نہ سمجھیں، ویکسین لگوائیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کیونکہ اگرچہ اعداد و شمار میں کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں، لیکن خطرہ اب بھی موجود ہے اور لاپرواہی مزید جانیں لے سکتی ہے۔