وزیرِاعظم مارک کارنی کا ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ، ڈیووس خطاب پر مؤقف برقرار رکھنے کا واضح پیغام

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے منگل کے روز کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ذاتی طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں کی گئی اپنی تقریر میں جو باتیں انہوں نے کہیں، وہ ان پر قائم ہیں۔ وزیرِاعظم کے مطابق وہ مؤقف کسی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک وسیع تر عالمی تناظر میں دیا گیا بیان تھا۔

مارک کارنی نے بتایا کہ پیر کے روز صدر ٹرمپ نے انہیں فون کیا، جس کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان عالمی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو میں وینزویلا، یوکرین اور دیگر بین الاقوامی معاملات کے علاوہ تجارتی پالیسیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کارنی کے مطابق انہوں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ کینیڈا وہ پہلا ملک تھا جس نے امریکی تجارتی پالیسی میں آنے والی تبدیلی کو بروقت سمجھا اور اسی کے مطابق اپنی حکمتِ عملی ترتیب دی۔

کابینہ اجلاس میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ ڈیووس میں ان کی تقریر کا مقصد صرف ایک نکتہ اجاگر کرنا تھا کہ دنیا میں اب تجارتی تعلقات اور طاقت کے توازن میں بنیادی تبدیلی آ رہی ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا اس تبدیلی کا مثبت جواب دے رہا ہے، ایک طرف ملک کے اندر معاشی بنیادوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب بیرونِ ملک نئے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات استوار کیے جا رہے ہیں۔

مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا اس نئے تناظر میں شمالی امریکا کے تجارتی معاہدے، یعنی کینیڈا۔امریکا۔میکسیکو معاہدے (CUSMA) کے تحت امریکا کے ساتھ ایک نئی اور متوازن شراکت داری کے لیے بھی تیار ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس وضاحت کو سمجھا اور دونوں کے درمیان گفتگو مثبت رہی۔

واضح رہے کہ ڈیووس میں اپنی تقریر کے دوران وزیرِاعظم کارنی نے درمیانے درجے کی طاقت رکھنے والے ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ باہمی تعاون کے ذریعے بڑی طاقتوں کی جانب سے معاشی دباؤ اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کا مقابلہ کریں۔

تاہم امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے امریکی میڈیا چینل فاکس نیوز سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ وہ کارنی اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی کال کے دوران موجود تھے اور ان کے بقول وزیرِاعظم کارنی اپنی ڈیووس والی باتوں سے “پیچھے ہٹتے دکھائی دیے”۔ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ کینیڈا کا انحصار امریکا پر ہے اور شمال۔جنوب تجارت کی اہمیت مشرق۔مغرب تجارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مارک کارنی نے واضح طور پر سر ہلا کر کہا کہ انہوں نے اپنی کسی بات سے رجوع نہیں کیا۔ بعد ازاں فاکس نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے وزیرِاعظم پر الزام لگایا کہ وہ اپنی “عالمی ایجنڈا” کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیرِاعظم کارنی نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو چین کے ساتھ کینیڈا کے حالیہ ٹیرف معاہدے اور تجارتی تنوع سے متعلق حکومت کی وسیع حکمتِ عملی سے بھی آگاہ کیا۔ ان کے مطابق انہوں نے صدر کو بتایا کہ کینیڈا نے صرف چھ ماہ کے دوران چار براعظموں میں بارہ نئے تجارتی معاہدے کیے ہیں، جس پر صدر ٹرمپ نے دلچسپی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر کینیڈا چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کرتا ہے تو وہ کینیڈین درآمدات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ نے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی “بورڈ آف پیس” میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی

دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کے خارجہ امور کے ناقد مائیکل چونگ نے اس معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ کینیڈین عوام کو وزیرِاعظم اور امریکی صدر کے درمیان ہونے والی گفتگو کا علم امریکی میڈیا کے ذریعے ہوا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ وزیرِاعظم کے دفتر کو چاہیے تھا کہ اس رابطے کی باضابطہ تفصیل جاری کرتا، جیسا کہ دیگر عالمی رہنماؤں سے ہونے والی گفتگو کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق وزیرِاعظم کے دفتر نے آخری مرتبہ 21 اگست کو کارنی اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیل جاری کی تھی، جبکہ اب تک دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی چار فون کالز اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ایک ملاقات کی معلومات شائع کی جا چکی ہیں۔

کینیڈا۔امریکا تجارتی امور کے وزیر ڈومینک لی بلانک نے بھی واضح کیا ہے کہ کینیڈا چین کے ساتھ کسی آزاد تجارتی معاہدے کی کوشش نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق چین کے ساتھ موجودہ معاہدہ مخصوص ٹیرف مسائل کے حل کے لیے ہے، جیسا کہ امریکا نے گزشتہ برس سویا بینز کے معاملے میں کیا تھا۔

وزیرِاعظم کارنی کے مطابق صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں کینیڈا۔امریکا۔میکسیکو آزاد تجارتی معاہدے کے جائزے پر بھی بات ہوئی، جس کا باضابطہ عمل رواں برس شروع ہونا ہے۔ اس کے علاوہ یوکرین، وینزویلا اور آرکٹک خطے کی سلامتی جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئے، تاہم وزیرِاعظم نے ان موضوعات پر گفتگو کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں