اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)سندھ حکومت نے ماہ رمضان سے قبل ہی شہریوں کے لیے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے آٹے کی فی کلو ریٹیل قیمت میں 8 روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 107 روپے فی کلو مقرر کر دیا ہے، جس کے مطابق 10 کلو آٹے کا تھیلا 1070 روپے میں فروخت ہوگا۔
کمشنر کراچی نے آٹے کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے 10 کلو آٹے کے تھیلے پر 80 روپے اضافہ کیا ہے، جبکہ آٹے کی ایکس مل قیمت 104 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، جس کے مطابق 10 کلو آٹے کا تھیلا 1040 روپے میں دستیاب ہوگا۔
یہ قیمتیں دسمبر 2025 میں مقرر کی گئی 99 روپے فی کلو کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اعلان کے باوجود شہر میں آٹے کو سرکاری قیمت پر دستیاب کرانا ناممکن نظر آ رہا ہے۔ ریٹیل دکانوں پر آٹے کی قیمت کہیں بھی سرکاری نرخوں کے مطابق نہیں مل رہی، بلکہ ایک کلو آٹا 125 روپے اور 10 کلو کا تھیلا 1250 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ کراچی میں چکی کے آٹے کی قیمت 140 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
شہریوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رمضان سے قبل آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی میں اضافہ کر رہی ہیں اور عام لوگوں کے لیے روزمرہ کا گزارا مشکل ہو گیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق آٹے کی قیمت میں اضافہ نہ صرف غریب گھرانوں کو متاثر کرے گا بلکہ مارکیٹ میں افراط زر کو بھی بڑھائے گا۔
تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں آٹے کی رسد محدود ہے، جس کی وجہ سے دکان دار صارفین سے زیادہ قیمت وصول کر رہے ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر آٹے کی دستیابی اور قیمتوں پر کنٹرول کے اقدامات کیے جائیں تاکہ رمضان کے مہینے میں عام عوام کے لیے بنیادی ضرورتیں مہیا کی جا سکیں۔