اونٹاریو کے وزیر تعلیم پال کالینڈرا نے اسکول بورڈ کو حکومتی نگرانی میں دے دیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)اونٹاریو کے وزیر تعلیم پال کالینڈرا نے بدھ کے روز ساتویں اسکول بورڈ کو حکومتی نگرانی میں دے دیا، جس کا مقصد درجنوں اساتذہ کی ممکنہ برطرفیوں کو روکنا ہے۔ وزیر تعلیم کے مطابق وہ مالی خدشات کے پیشِ نظر جلد ہی ایک اور اسکول بورڈ کا کنٹرول سنبھالنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

پال کالینڈرا نے اعلان کیا کہ پیل ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ کو باضابطہ طور پر نگرانی میں رکھا گیا ہے، جبکہ یارک کیتھولک ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ کو دو ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ اسے اسی نوعیت کے اقدام سے کیوں بچایا جائے۔ وزیر تعلیم کے مطابق اگر یارک کیتھولک بورڈ اس مدت میں اپنے مالی اور انتظامی معاملات پر تسلی بخش وضاحت فراہم نہ کر سکا تو اسے بھی حکومتی تحویل میں دیا جا سکتا ہے۔

کالینڈرا نے بتایا کہ پیل ریجن، جو ٹورنٹو کے مغرب میں واقع ہے، وہاں کا اسکول بورڈ تقریباً 60 اساتذہ کو ملازمت سے فارغ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، جس کے نتیجے میں قریب 1,400 طلبہ متاثر ہوتے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا، “تعلیمی سال کے درمیان اساتذہ کو نکالنے، کلاس رومز کی ازسرِ نو ترتیب اور طلبہ پر پڑنے والے اثرات کا تصور ہی تعلیمی نظام میں انتشار پیدا کر دیتا ہے۔ اس کا اثر نہ صرف طلبہ بلکہ والدین اور اساتذہ پر بھی پڑتا ہے جنہوں نے باہمی اعتماد پر مبنی تعلق قائم کیا ہوتا ہے۔”

پیل ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ کو اب دو ہفتے دیے گئے ہیں تاکہ وہ وزیر تعلیم کے اٹھائے گئے خدشات کا جواب دے سکے۔ اس مدت کے بعد کالینڈرا فیصلہ کریں گے کہ نگرانی ختم کی جائے یا برقرار رکھی جائے۔ اگر نگرانی جاری رہی تو باضابطہ طور پر ایک سپروائزر مقرر کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم نے کہا، “مجھے نہیں لگتا کہ 14 دنوں میں وہ مجھے قائل کر سکیں گے کہ گزشتہ پانچ برسوں کی بدانتظامی اور ناقص فیصلوں کا سلسلہ اچانک ختم ہو جائے گا۔”

کالینڈرا کے مطابق پیل بورڈ مسلسل پانچ سال سے خسارے میں چل رہا ہے، جس سے اس کی طویل المدتی مالی پائیداری پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ اسی طرح یارک کیتھولک بورڈ نے اپنے مالی ذخائر ختم کر دیے ہیں، ایک “حقیقت پسندانہ مالی بحالی منصوبہ” جمع کرانے سے انکار کیا ہے، اور گزشتہ نو برسوں میں سات ڈائریکٹرز آف ایجوکیشن تبدیل کیے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اسکول بورڈز پر قبضہ اور منتخب ٹرسٹیز کو ایک طرف کرنا مقامی جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔ ان کے مطابق اسکول بورڈز کی مالی مشکلات کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صوبائی فنڈنگ بڑھتی ہوئی ضروریات اور مہنگائی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو رہی۔

اونٹاریو پبلک اسکول بورڈز ایسوسی ایشن کی صدر کیتھلین وُڈکاک نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرسٹیز کمیونٹیز کو آواز فراہم کرتے ہیں، اور جب یہ کردار کمزور ہوتا ہے تو اس کا نقصان پورے نظام کو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ تعاون کی خواہش برقرار ہے، مگر جب کلاس روم سے متعلق فیصلے مقامی مشاورت کے بغیر کوئنز پارک میں کیے جائیں تو یہ عمل مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

عبوری لبرل لیڈر جان فریزر نے بھی وزیر تعلیم کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومتی قبضے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ ان کے مطابق اسکول محفوظ نہیں رہے، کلاسوں میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے، خصوصی تعلیم کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور ذہنی صحت کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔

پال کالینڈرا نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اسکول بورڈز کے گورننس نظام میں وسیع تبدیلیوں پر غور کر رہے ہیں، جن میں ممکنہ طور پر ٹرسٹیز کے کردار کو تقریباً ختم کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ جلد متوقع ہے۔ واضح رہے کہ کالینڈرا کے وزیر بننے کے بعد اب تک چھ دیگر اسکول بورڈز کو بھی بدانتظامی کے الزامات کے تحت حکومتی کنٹرول میں لیا جا چکا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں