البرٹا کے 9 ہزار سرکاری ملازمین دفاتر واپس، ہائبرڈ پالیسی کے خاتمے پر براؤن بیگ احتجاج

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا کے 9 ہزار یونین سے وابستہ صوبائی ملازمین اس ہفتے کے آخر سے مکمل طور پر دفاتر واپس جا رہے ہیں، تاہم اس واپسی کے ساتھ ایک علامتی احتجاج بھی کیا جائے گا جسے “براؤن بیگ احتجاج” کا نام دیا گیا ہے۔البرٹا یونین آف پروونشل ایمپلائز کی نائب صدر بوبی جو بوروڈی کے مطابق ملازمین اپنے ڈیسک پر بھورے کاغذ کے بیگ رکھیں گے جن پر ایک نوٹ درج ہوگا


“ہائبرڈ کام کا ذائقہ زیادہ بہتر ہے۔بوروڈی کا کہنا ہے کہ یہ بیگ صوبائی حکومت کی جانب سے ہائبرڈ ورک پالیسی کے خاتمے کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے یہ فیصلہ سرکاری دفاتر کے اطراف کاروبار کو دوبارہ متحرک کرنے کے مقصد سے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج ورک فرام ہوم پروگرام کے خاتمے پر یونین کے دیگر تحفظات کی بھی نمائندگی کرتا ہے، جن میں بددیانتی پر مبنی مذاکرات، دفاتر میں جگہ کی کمی اور ذہنی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات شامل ہیں۔

ایک انٹرویو میں بوروڈی نے کہا،حکومت کی جانب سے یہ جواز پیش کیا گیا کہ ملازمین کی واپسی سے صوبے کے مختلف شہروں کے ڈاؤن ٹاؤن علاقوں کو بحال کیا جا سکے گا، اور یہ واپسی ایک جادوئی حل ثابت ہوگی۔”

انہوں نے مزید کہااگر حکومت سمجھتی ہے کہ صرف دفاتر واپسی سے ڈاؤن ٹاؤن کے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے تو یہ ایک غلط فہمی ہے۔ یکجہتی کے اظہار کے طور پر ہم اپنا کھانا گھر سے لائیں گے اور یہ پیغام دیں گے کہ ہائبرڈ نظام میں اس کا ذائقہ بہتر ہوتا۔”

البرٹا کی یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی حکومت نے اکتوبر میں ہائبرڈ ورک پالیسی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اتوار سے ملازمین کو مکمل وقت کے لیے دفاتر واپس آنے کی ہدایت دی تھی۔ یونین سے باہر کے ملازمین، جیسے کہ منیجرز، بھی اس حکم کے تحت واپس آ رہے ہیں۔

یہ پالیسی 2022 کے اوائل میں متعارف کرائی گئی تھی جس کے تحت ملازمین کو ہفتے میں پانچ دن میں سے دو دن گھر سے کام کرنے کی اجازت تھی، تاکہ کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکے۔حکومت کا کہنا ہے کہ حالات اب بدل چکے ہیں۔

اکتوبر میں ڈپٹی منسٹرز کونسل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق،اگست 2025 تک تقریباً 12 ہزار 600 اے پی ایس ملازمین، یعنی افرادی قوت کے لگ بھگ 44 فیصد، ہائبرڈ ورک انتظامات کے تحت کام کر رہے تھے۔”

بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ دیگر اداروں، بشمول اونٹاریو حکومت، کے فیصلوں سے ہم آہنگ ہے، جبکہ طبی وجوہات کی بنیاد پر استثنا دیا جا سکتا ہے۔

بدھ کے روز البرٹا کی وزارتِ خزانہ کی ترجمان نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق سے انکار کیا کہ حکومت نے یونین کو مقامی معیشت کو فروغ دینے کے لیے دفاتر واپسی کا بتایا تھا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ بہترین کارکردگی کے حصول کے لیے کیا گیا ہے۔

وزارتِ خزانہ کی پریس سیکریٹری ماریسا بریز نے ای میل میں کہا،البرٹا کی پبلک سروس فروری میں مکمل وقت کے لیے دفاتر واپس آ رہی ہے تاکہ تعاون، جوابدہی اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔

دوسری جانب مینیٹوبا، برٹش کولمبیا اور نیو برنسوک کی حکومتوں نے کہا ہے کہ وہ ہائبرڈ ورک کی اجازت دیتی ہیں، جبکہ نارتھ ویسٹ ٹیریٹوریز اور نیوفاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور اپنی ریموٹ ورک پالیسیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

بوبی جو بوروڈی نے کہا کہ البرٹا میں ہائبرڈ پالیسی کا خاتمہ ایک دھوکہ ہے۔ان کے مطابق گزشتہ سال کنٹریکٹ مذاکرات کے دوران حکومت نے یونین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ملازمین ہائبرڈ ورک کی درخواست دے سکیں گے۔ یونین نے اسے اس بات کا اشارہ سمجھا کہ حکومت پالیسی ختم نہیں کرے گی۔تاہم چھ ہفتوں کے اندر ہی ہائبرڈ ورک پروگرام ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

بوروڈی نے کہامذاکرات کے پورے عمل کے دوران کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ ہائبرڈ پالیسی ختم کرنے کا کوئی منصوبہ موجود ہے۔
جب پہلے ہی پالیسی ختم کرنے کا ارادہ تھا تو پھر اس کے حوالے سے معاہدے میں شقیں شامل کرنے کے لیے مذاکرات کیوں کیے گئے؟”

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے ان ملازمین کو شدید مایوس کیا جنہوں نے اس معاہدے کی توثیق کی تھی۔ان کے مطابق 725 سے زائد ملازمین نے دفاتر واپسی کے حکم کے خلاف شکایات درج کرائی ہیں، کیونکہ ان کی ہائبرڈ ورک کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔

یونین ارکان نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ دفاتر میں تمام ملازمین کے لیے ڈیسک دستیاب نہیں ہوں گے، کیونکہ ہائبرڈ نظام کے تحت ورک اسپیس کا تبادلہ ممکن تھا۔

ماریسا بریز نے کہا کہ ہر ملازم کے لیے کام کی جگہ موجود ہوگی۔انہوں نے کہا، “حقیقت یہ ہے کہ تقریباً 99 فیصد ملازمین کو پہلے ہی مستقل ورک اسپیس الاٹ کی جا چکی ہے۔”بوبی جو بوروڈی کے مطابق ذہنی صحت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا،کئی ملازمین مجھے الگ سے بتاتے ہیں کہ ایک ایسا ماحول جہاں توجہ بٹنے اور خلل کا سامنا نہ ہو، ذہنی صحت کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں