ایران پر حملے کی دھمکیاں: کیا دنیا ایک اور عراق دہرانے جا رہی ہے؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سابق سربراہ اور نوبیل انعام یافتہ محمد البرادعی نے

ایران کے خلاف دی جانے والی عسکری دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عراق جنگ سے قبل کی خطرناک فضا سے تشبیہ دی ہے۔محمد البرادعی کا کہنا ہے کہ جس انداز میں ایران پر حملوں کی بات کی جا رہی ہے، وہ 2003 میں عراق کے خلاف شروع کی گئی اس مہم کی یاد دلاتی ہے جو بعد ازاں ایک غیر اخلاقی اور غیر قانونی جنگ پر منتج ہوئی۔ ان کے مطابق اُس وقت بھی عالمی رائے عامہ کو خطرات کا خوف دلا کر جنگ کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا گیا تھا، جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔

اپنے بیان میں سابق آئی اے ای اے سربراہ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے فی الوقت کوئی ایسا واضح، فوری یا موجود خطرہ نظر نہیں آتا جو یکطرفہ فوجی کارروائی کا جواز فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود ایران کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

محمد البرادعی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانی جانوں کی قیمت اور کسی پورے خطے کی ممکنہ تباہی کو سنجیدگی سے مسئلہ ہی نہیں سمجھا جا رہا۔ ان کے بقول دنیا نے عراق، افغانستان اور لیبیا جیسے تنازعات سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور وہی غلطیاں دہرانے کی تیاری نظر آ رہی ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ چند روز کے دوران متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکی بحری بیڑا تیزی سے ایران کی سمت بڑھ رہا ہے۔ ان بیانات نے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر ایک نئی جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امن شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔محمد البرادعی نے عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کے راستے کو اپنائیں، تاکہ دنیا ایک اور طویل اور تباہ کن جنگ سے بچ سکے۔

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں