کینیڈا کے ساتھ ہنڈائی کی ہائیڈروجن شراکت، آٹو انڈسٹری کا نیا موڑ

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی، کاربن اخراج میں کمی اور صاف توانائی کی دوڑ نے آٹو موبائل انڈسٹری کو ایک تاریخی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

بیشتر عالمی کار ساز ادارے جہاں الیکٹرک وہیکلز (EVs) کو مستقبل کا واحد حل قرار دے کر اسی سمت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہیں جنوبی کوریا کی معروف کمپنی ہنڈائی ایک مختلف، نسبتاً مشکل مگر طویل المدتی راستہ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ کینیڈا کے ہائیڈروجن توانائی شعبے کے ساتھ ممکنہ تعاون میں دلچسپی کا اظہار اسی حکمتِ عملی کا واضح ثبوت ہے۔ہنڈائی کی جانب سے کینیڈا میں ہائیڈروجن انرجی سیکٹر کے ساتھ اشتراک پر غور ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کینیڈا اور جنوبی کوریا کے درمیان آٹو اور بیٹری مینوفیکچرنگ سمیت کئی اہم شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف دو طرفہ صنعتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی علامت ہے بلکہ عالمی سطح پر صاف توانائی کی نئی سمتوں کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے مقابلے میں ہائیڈروجن فیول سیل گاڑیوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی طویل رینج اور کم وقت میں ایندھن بھرنے کی صلاحیت ہے۔ جہاں الیکٹرک گاڑیوں کو مکمل چارج ہونے میں گھنٹوں لگ سکتے ہیں، وہیں ہائیڈروجن گاڑیاں روایتی پیٹرول گاڑیوں کی طرح چند منٹوں میں ری فیول ہو جاتی ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں کمرشل ٹرانسپورٹ، ٹرکوں اور بھاری گاڑیوں کے لیے خاص طور پر موزوں بناتی ہے۔تاہم اس ٹیکنالوجی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ انفراسٹرکچر ہے۔ ہائیڈروجن اسٹیشنز کی تعمیر، محفوظ ذخیرہ، نقل و حمل اور پیداوار کے اخراجات وہ عوامل ہیں جن کے باعث زیادہ تر کمپنیاں اس میدان سے پیچھے ہٹتی نظر آ رہی ہیں۔ جنرل موٹرز اور اسٹیلا نٹس جیسے بڑے اداروں کا ہائیڈروجن پروگرام بند کرنا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ راستہ نہ صرف مہنگا بلکہ غیر یقینی بھی ہے۔
اس کے باوجود ہنڈائی نے اس ٹیکنالوجی پر بھاری سرمایہ کاری جاری رکھی ہوئی ہے۔ آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق ہنڈائی نے ہائیڈروجن کو محض ایک متبادل نہیں بلکہ مستقبل کے ایک اہم ستون کے طور پر اپنایا ہے، خصوصاً بھاری گاڑیوں اور کمرشل ٹرانسپورٹ کے شعبے میں۔ 2020 میں دنیا کے پہلے ہیوی ڈیوٹی ہائیڈروجن ٹرک متعارف کرانا اسی وژن کا عملی اظہار تھا۔
کینیڈا کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہنڈائی کی دلچسپی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ برٹش کولمبیا میں ہائیڈروجن ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور کیوبیک میں صاف توانائی کے وسائل اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ کینیڈا ہائیڈروجن معیشت کے لیے موزوں بنیاد رکھتا ہے۔ اگر یہ اشتراک حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو یہ ایک قومی سطح کا منصوبہ بن سکتا ہے جو نہ صرف آٹو انڈسٹری بلکہ توانائی کے شعبے کو بھی نئی سمت دے گا۔اعداد و شمار کے مطابق ہنڈائی اور اس کی ذیلی کمپنی کیا (Kia) کینیڈا میں مضبوط مارکیٹ شیئر رکھتی ہیں۔ 2025 میں ایک لاکھ سے زائد ہنڈائی اور تقریباً ایک لاکھ کیا گاڑیوں کی فروخت اس بات کا ثبوت ہے کہ کمپنی کو کینیڈین صارفین کا اعتماد حاصل ہے۔ ایسے میں ہائیڈروجن گاڑیوں کے لیے کینیڈا کو تجربہ گاہ کے طور پر دیکھنا ایک عملی حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے۔
تاہم یہ راستہ خطرات سے خالی نہیں۔ 2024 میں ہنڈائی کو اپنے NEXO ہائیڈروجن فیول سیل ماڈلز واپس منگوانا پڑے، جس کی وجہ ایندھن کے رساؤ اور ممکنہ آگ کے خدشات تھے۔ اس واقعے نے ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کی حفاظت سے متعلق سوالات کو مزید گہرا کر دیا۔ یہ یاد دہانی بھی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے ساتھ ذمہ داری اور احتیاط بھی ناگزیر ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہائیڈروجن واقعی آٹو انڈسٹری کا مستقبل بن سکتی ہے، یا یہ صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود رہے گی؟ ماہرین کے مطابق اگر عالمی آٹو مارکیٹ کا محض 10 فیصد حصہ بھی ہائیڈروجن پر منتقل ہو جاتا ہے تو یہ لاکھوں گاڑیوں کی سالانہ پیداوار کے برابر ہوگا، جو کسی بھی کمپنی کے لیے نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔صاف توانائی کی دوڑ میں صرف ایک راستہ نہیں ہوتا۔ بجلی، ہائیڈروجن اور دیگر متبادل ایندھن مل کر ہی پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اگر کینیڈا اور ہنڈائی کا ممکنہ اشتراک کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف آٹو انڈسٹری بلکہ عالمی ماحولیاتی اہداف کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

 

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں