اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کے ساتھ جاری تنازع میں ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبوں سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عالمی ثالثی عدالت نے ہدایت کی ہے کہ بھارت 9 فروری تک بگلہیار اور کشن گنگا پن بجلی منصوبوں کے آپریشنل لاگ بکس جمع کرائے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر بھارت مقررہ تاریخ تک یہ ریکارڈ فراہم نہیں کرتا تو اسے باضابطہ طور پر اس کی وجہ بتانا ہوگی۔
عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان 2 فروری تک واضح کرے کہ وہ بھارت سے کون کون سی دستاویزات طلب کر رہا ہے۔ اس کیس کے دوسرے مرحلے کی سماعت 2 اور 3 فروری کو دی ہیگ میں ہوگی۔
یہ پیش رفت سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے مؤقف کو تقویت دیتی ہے، جس میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت کی جانب سے دریاؤں پر بنائے گئے بعض پن بجلی منصوبے معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں اور ان سے پاکستان کے آبی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے اصول وضع کیے گئے تھے۔ پاکستان اس معاملے کو مسلسل عالمی فورمز پر اٹھاتا رہا ہے۔
عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ حکم کو پاکستان کے لیے ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے بھارت پر شفافیت اور جوابدہی کا دباؤ بڑھے گا۔