اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کنزرویٹو پارٹی آف کینیڈا کے قومی کنونشن میں اپنے ہی سیاسی میدان میں شرکت کرتے ہوئے روایتی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا
اور حاضرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل کی۔ کیلگری میں ہونے والے اس کنونشن میں اسمتھ کی تقریر نے واضح کیا کہ وفاقی کنزرویٹو حلقوں میں ان کی سیاسی گرفت مضبوط ہے، جبکہ مقامی مقام پر ہونے کے باعث انہیں ہوم گراؤنڈ کا فائدہ بھی حاصل رہا۔تقریر کے آغاز میں اسمتھ نے ملک بھر سے آنے والے کنزرویٹو مندوبین کو کیلگری آمد پر خوش آمدید کہا اور شہر کو کینیڈا میں قدامت پسند سیاست کا دل قرار دیا۔ ان کی اس بات پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ انہوں نے اپنی تقریر کا ایک مختصر حصہ فرانسیسی زبان میں بھی پیش کیا، جس پر خود ہی مزاحیہ انداز میں کہا کہ کوشش تو بنتی ہے، جس سے ماحول مزید خوشگوار ہو گیا۔
ڈینیئل اسمتھ نے کنزرویٹو پارٹی کے قائد پیئر پوئیلیور کو ملنے والے 87.4 فیصد مینڈیٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت گزشتہ ایک دہائی کے ان مسائل کو درست کرنے کے لیے ناگزیر ہے، جو ان کے بقول لبرل حکومت کے دور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سابق وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو اور سابق وزیرِ ماحولیات اسٹیون گیلبو پر سخت تنقید کی، جن کے نام سنتے ہی مجمع کی جانب سے شدید نعرے بازی اور ہوٹنگ کی گئی۔ اسمتھ کا مؤقف تھا کہ لبرل قیادت نے البرٹا کی معیشت کو نقصان پہنچایا اور صوبائی اختیارات میں غیر ضروری مداخلت کی۔
اگرچہ انہوں نے وزیرِاعظم مارک کارنی کا نام براہِ راست نہیں لیا، تاہم پائپ لائنز کو دوبارہ معمول کی چیز بنانے سے متعلق بیانات کا حوالہ دے کر واضح اشارہ دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کنزرویٹو جماعت نے پائپ لائنز کی حمایت اس وقت بھی کی تھی جب یہ موضوع مقبول نہیں تھا اور آئندہ بھی کرے گی۔ ان کے مطابق کینیڈا کو مغرب، مشرق، شمال اور جنوب ہر سمت میں پائپ لائنز کی ضرورت ہے۔
حال ہی میں اوٹاوا کے ساتھ طے پانے والے مفاہمتی معاہدے، جس میں نئی بٹومن پائپ لائن پر تعاون شامل ہے، کو اسمتھ نے اس بات کی علامت قرار دیا کہ وفاق اور البرٹا کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔ تاہم ان کی اپنی جماعت کے اندر موجود علیحدگی پسند عناصر اس حوالے سے مکمل طور پر مطمئن نظر نہیں آئے۔ کنونشن میں موجود کچھ البرٹا کے مندوبین کا کہنا تھا کہ محض وعدوں سے بات نہیں بنے گی اور جب تک عملی طور پر منصوبوں پر کام شروع نہیں ہوتا، بے چینی برقرار رہے گی۔
اسمتھ نے اپنی تقریر میں سخت ضمانت قوانین، سزاؤں میں سختی، وفاقی آتشیں اسلحہ پالیسی پر تنقید اور امیگریشن کی سطح کم کرنے جیسے نکات پر بھی زور دیا۔ کنونشن کے دوران ان کی تقریر کو سب سے زیادہ جوش و خروش ملا اور متعدد مواقع پر حاضرین کھڑے ہو کر تالیاں بجاتےرہے۔نوجوان مندوبین میں بھی ان کی مقبولیت نمایاں رہی۔ مانیٹوبا سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ مندوب وینیا رائمر نے اسمتھ کو نوجوان کنزرویٹوز کے لیے ایک تحریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تقریر میں جوش بھی تھا اور قیادت کا توازن بھی، جو نوجوانوں کو متحرک کرتا ہے۔
اگرچہ حالیہ دنوں میں البرٹا میں علیحدگی پسند تحریک دوبارہ خبروں میں رہی ہے، مگر اسمتھ نے اپنی تقریر میں اس موضوع پر براہِ راست بات کرنے سے گریز کیا۔ وہ اس سے قبل بھی کہہ چکی ہیں کہ وہ ایک مضبوط اور خودمختار البرٹا کو متحدہ کینیڈا کے اندر دیکھنا چاہتی ہیں اور ان شہریوں کو شیطان بنانے کے حق میں نہیں جو کنفیڈریشن سے مایوس ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب پیئر پوئیلیور نے اپنی تقریر میں البرٹا اور کیوبیک میں بڑھتی علیحدگی پسند سوچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگوں پر حملہ کرنے کے بجائے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایسا کیوں محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق لبرل پالیسیوں نے اس احساس کو جنم دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، البرٹا میں کنزرویٹو ووٹرز کے درمیان علیحدگی کے حق اور مخالفت میں رائے تقریباً برابر ہے، جو ڈینیئل اسمتھ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار لوری ولیمز کا کہنا ہے کہ اسمتھ آئندہ دنوں میں اس بات پر توجہ دیں گی کہ چاہے اوٹاوا میں مارک کارنی ہوں یا پیئر پوئیلیور، اصل مقصد نظریات نہیں بلکہ کنفیڈریشن کو البرٹا کے لیے منصفانہ بنانا ہے۔
کنونشن کے موقع پر علیحدگی کی حمایت کرنے والے گروپس کے نمائندے بھی موجود تھے، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ البرٹا کی آزادی کے حق میں عوامی حمایت بڑھ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں کیلگری میں ہونے والی ایک ریلی میں ہزاروں افراد کی شرکت کو بھی اسی رجحان سے جوڑا جا رہا ہے، جس نے البرٹا کی سیاست میں اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔