پنچر کریک اسپتال میں مبینہ لاپروائی،خاتون بغیر وجہ طبی امداد سے محروم

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) البرٹا کے شہر پنچر کریک کی ایک خاتون نے مقامی اسپتال میں مبینہ طور پر بغیر کسی واضح وجہ کے طبی سہولت سے محروم

کیے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجربے نے انہیں ذہنی طور پر اس قدر متاثر کیا کہ اب وہ دوبارہ وہاں جانے سے خوف محسوس کرتی ہیں۔کورالی ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ اسپتال جانا ان کے لیے کبھی خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا، تاہم اپنی صحت کے مسائل کے باعث انہیں بعض اوقات کیلشیم انفیوژن اور دیگر علاج کے لیے اسپتال جانا پڑتا ہے۔ وہ 22 جنوری کو طبی امداد کی غرض سے پنچر کریک ہیلتھ سینٹر پہنچیں، مگر اس بار کا تجربہ ان کے لیے نہایت تلخ ثابت ہوا۔
ایڈورڈز کے مطابق ماضی میں اسی اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں ان کے ساتھ عملے کا رویہ پیشہ ورانہ اور باعزت رہا، مگر اس روز صورتحال بالکل مختلف تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے انہیں اس وقت گھر بھیج دیا جب ان کا بلڈ پریشر 183 تھا اور خون میں شوگر کی سطح تقریباً 30 کے قریب تھی، جو طبی لحاظ سے انتہائی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔ اس کے باوجود، ان کے بقول، نہ تو مناسب علاج کیا گیا اور نہ ہی گھر بھیجنے کی کوئی وجہ بتائی گئی۔
کورالی ایڈورڈز نے کہا کہ ڈاکٹر کے رویے سے انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ ان کا وقت ضائع کر رہی ہوں۔ ان کے مطابق وہ شدید طبی تکلیف میں تھیں، رو رہی تھیں، مگر کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یوں لگا جیسے وہ کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں، جیسے وہ ایک ’’نوبڈی‘‘ ہوں۔
واقعے کے بعد وہ گھر پر صحت یاب تو ہو گئیں، مگر ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں خوف ہے کہ اگر دوبارہ اسی ڈاکٹر کی ڈیوٹی ہوئی تو وہ اسپتال جانے سے گریز کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں انہیں گھر پر شدید دورہ پڑا، جس کے بعد ایمبولینس بلائی گئی، مگر انہوں نے اسپتال جانے سے انکار کر دیا اور پہلے یہ جاننے پر اصرار کیا کہ وہاں کون سا ڈاکٹر موجود ہے۔
ایڈورڈز یہ تسلیم کرتی ہیں کہ ممکن ہے ہیلتھ سینٹر پر مریضوں کا دباؤ زیادہ ہو، کیونکہ البرٹا بھر میں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ڈاکٹرز مسلسل اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور بعض نے تو صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ فوری توجہ کی توقع نہیں رکھتی تھیں، مگر کم از کم عملے کو تھوڑا سا نرم اور ہمدرد ہونا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق اسپتال کی مصروفیت کا خمیازہ مریضوں کو نہیں بھگتنا چاہیے۔
البرٹا ہیلتھ سروسز نے اس مخصوص واقعے پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایک بیان میں کہا کہ وہ اس بات کے پابند ہیں کہ تمام البرٹنز کو بروقت اور مناسب طبی سہولت فراہم کی جائے۔ بیان کے مطابق ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں آنے والے تمام مریضوں کی پہلے نرس کے ذریعے جانچ پڑتال کی جاتی ہے، جس کے بعد طبی عملہ اگلے اقدامات کا فیصلہ کرتا ہے، جن میں گھر پر علاج کی ہدایات یا اسپتال میں داخلہ شامل ہو سکتا ہے۔
اے ایچ ایس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنچر کریک ہیلتھ سینٹر میں مریضوں کی تعداد میں بعض اوقات غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے، تاہم اس صورت میں اضافی بستر، جلد ڈسچارج، اضافی عملہ اور دیگر سہولیات کے ذریعے دباؤ کم کرنے کے منصوبے موجود ہیں۔ ادارے نے زور دیا کہ جن مریضوں کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہو، انہیں اب بھی اپنے مقامی ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔
غیر ہنگامی مسائل کے لیے اے ایچ ایس نے فیملی ڈاکٹر، ہیلتھ لنک 811 یا بعض صورتوں میں فارماسسٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ادارے کے مطابق مریضوں کی آراء اور شکایات خدمات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں اور اس کے لیے پییشنٹ ریلیشنز ٹیم سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
کورالی ایڈورڈز کے لیے، تاہم، یہ ایک واقعہ اعتماد کے ٹوٹنے کے لیے کافی ثابت ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی گھبراہٹ اور بے چینی کے دوروں کا شکار رہتی ہیں، اور اس واقعے کے بعد ان کا خوف مزید بڑھ گیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پنچر کریک میڈیکل سینٹر کے بیشتر عملے کے وہ شکر گزار ہیں، جنہوں نے ماضی میں ان کی بھرپور مدد کی، مگر ان کے مطابق ایک منفی تجربہ بھی مریض کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں