اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران، روس اور چین نے شمالی بحرِ ہند میں رواں ماہ مشترکہ بحری مشقیں کرنے کا اعلان کیا ہے
جس کا مقصد تینوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے یا حملے سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کرنا ہے۔ ان مشقوں کو ‘میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ کا نام دیا گیا ہے۔ایران کی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اس پروگرام میں ایران کی بحریہ، پاسداران انقلاب کے گارڈز، روس اور چین کی بحری افواج حصہ لیں گی۔ یہ مشقیں ایران کی جانب سے 2019 میں باقاعدہ آغاز کی گئی تھیں اور اب تک سات مرتبہ کامیابی سے منعقد ہو چکی ہیں۔
ایران، روس اور چین کی مشترکہ بحری مشقوں کا بنیادی مقصد بحری حدود میں فوجی تیاریوں کو بڑھانا اور تینوں ممالک کے درمیان سمندری دفاع کے شعبے میں روابط مضبوط کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ مشقیں دفاعی حکمت عملی، بحری حدود کی نگرانی، دشمن کے حملے کی صورت میں فوری ردعمل اور بحری جہازوں کی آپریشنل ہم آہنگی کو بہتر بنانے پر مرکوز ہوں گی۔
ایران کی جانب سے یہ مشقیں خاص طور پر اس تناظر میں اہم ہیں کہ اس کے مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور فوجی حالات کشیدہ ہیں۔ امریکی بحری بیڑہ اس خطے میں پہلے ہی موجود ہے اور تہران کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات گزشتہ کئی سالوں سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ ان حالات میں ایران کی جانب سے روس اور چین کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان، ایک واضح سیاسی اور فوجی اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ تہران عالمی طاقتوں کے تعاون سے اپنی دفاعی تیاریوں کو مضبوط کر رہا ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس مشق میں شریک ممالک مختلف فوجی اور دفاعی سرگرمیوں پر توجہ دیں گے جن میں سمندری حدود کی نگرانی، ہتھیاروں اور بحری آلات کا استعمال، دشمن کی ممکنہ حرکتوں کا تجزیہ اور مشترکہ فوجی حکمت عملی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، مشق میں سمندری رکاوٹوں کے خاتمے، آبی حملوں کے ردعمل کی مشق اور سمندری تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی تربیت دی جائے گی۔
ایران کی پاسداران انقلاب کے گارڈز (IRGC) کی بحری دستے اس مشق میں ایک اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ روس اور چین کی بحری افواج اپنے جدید جہازوں، جنگی ہوائی بیڑوں اور دفاعی نظاموں کے ذریعے تربیت میں حصہ لیں گی۔ تینوں ممالک کی افواج کی تربیت میں رابطے اور کمیونیکیشن کی مشقیں بھی شامل ہیں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مربوط جواب دیا جا سکے۔
ایران کی جانب سے ان مشقوں کا آغاز 2019 میں کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی ایران نے مختلف بین الاقوامی بحری مشقوں میں حصہ لیا تھا، مگر ‘میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ کے تحت ہونے والی یہ مشقیں ایران، روس اور چین کی بحری افواج کے درمیان مسلسل تعلقات اور فوجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ 2019 سے اب تک یہ مشقیں سات مرتبہ منعقد ہو چکی ہیں اور ہر بار ایران کی شمالی بحرِ ہند میں دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ مشقیں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں امریکی اور ایرانی تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ واشنگٹن نے خلیج فارس اور شمالی بحرِ ہند میں اپنے بحری بیڑہ کی موجودگی بڑھا دی ہے، جس کا مقصد ممکنہ خطرات کا فوری جواب دینا اور اپنے تجارتی اور فوجی مفادات کا تحفظ کرنا بتایا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے روس اور چین کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان اس خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کی ایک واضح کوشش ہے۔
ماہرین بین الاقوامی تعلقات کا کہنا ہے کہ ایران، روس اور چین کی یہ مشقیں نہ صرف فوجی تربیت بلکہ سیاسی پیغام بھی ہیں کہ یہ ممالک عالمی سطح پر اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے متحد ہیں۔ یہ مشقیں خطے میں کسی بھی کشیدگی کے دوران فوری اور مربوط دفاعی ردعمل دینے کے قابل ہونے کا بھی اشارہ ہیں۔
ایران کی بحری حکمت عملی میں شمالی بحرِ ہند کی اہمیت واضح ہے۔ اس خطے کے ذریعے ایران کی بین الاقوامی تجارتی اور تیل کی ترسیل کی اہم جہتیں گزرتی ہیں۔ ان مشقوں کے ذریعے ایران اپنے سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کر رہا ہے۔ پاسداران انقلاب کے گارڈز کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے یا غیر متوقع واقعے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
روس اور چین کی بحری افواج کی شمولیت نہ صرف ایران کی فوجی تیاریوں کو بڑھا رہی ہے بلکہ یہ دونوں ممالک اپنی بحری صلاحیتوں اور تکنیکی مہارت کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔ روس نے اپنے جدید بحری جہاز، جنگی طیارے اور دفاعی نظام تربیتی مشقوں میں استعمال کیے ہیں، جبکہ چین نے بھی اپنی جدید بحری تکنیک اور آلات کے ذریعے مشقوں میں حصہ لیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مشقیں تینوں ممالک کے لیے ایک موقع ہیں کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں اور آپس میں رابطے مضبوط کریں، تاکہ بحری حدود میں کسی بھی خطرے کا فوری جواب دیا جا سکے۔
ایران، روس اور چین کے درمیان اس قسم کی مشترکہ مشقیں مستقبل میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔ یہ ممالک اپنی فوجی تیاریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور سمندری دفاعی تکنیک میں مہارت حاصل کرنے کے لیے مسلسل تربیت کر رہے ہیں۔ مشقوں کے نتائج اور تجربات کو مستقبل میں ان ممالک کے دفاعی منصوبوں میں بھی شامل کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مشقیں بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کی ہیں، مگر عالمی سیاست میں ان کا اثر بھی نمایاں ہو گا۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی بحرِ ہند میں یہ مشقیں اس بات کی علامت ہیں کہ ایران، روس اور چین اس خطے میں اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے مضبوط اتحاد قائم کر رہے ہیں۔