اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق جاری ہونے والی تازہ دستاویزات میں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دینے والے دعوے سامنے آئے ہیں۔ ان خفیہ سرکاری فائلز میں امریکی حکام، عالمی طاقتوں اور ایپسٹین کے اثر و رسوخ سے متعلق کئی اہم معلومات شامل ہیں، جن کا تعلق سیاسی، مالی اور ذاتی سطح پر ہونے والے تعلقات سے ہے۔
امریکی محکمہ انصاف نے جیفری ایپسٹین کے خلاف تحقیقات سے متعلق تقریباً 30 لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں۔ ان میں دو ہزار ویڈیوز اور ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد تصاویر شامل ہیں، تاہم بعض حصے خفیہ رکھے گئے ہیں یا مکمل طور پر سیاہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ فائلز ایف بی آئی کی تفتیشی رپورٹس، ای میلز، ایپسٹین کی جائیدادوں کی تفصیلات، اور نیویارک کی جیل میں اس کی موت سے متعلق معلومات پر مشتمل ہیں۔ایپسٹین کی موت آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے، اور فائلز میں اس سلسلے میں کئی تنازعہ خیز رپورٹس شامل ہیں جو تحقیقاتی اور قانونی حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔
نئی دستاویزات میں امریکی عہدیداروں پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل، روس اور متحدہ عرب امارات نے امریکی سیاسی اور مالی حلقوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ خاص طور پر اسرائیلی اثر و رسوخ کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’کمپرومائزڈ‘ کیا، یعنی ٹرمپ کے فیصلوں اور اقدامات پر اثر انداز ہونے میں کامیابی حاصل کی۔
رپورٹ میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کو بھی ایک بااثر کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کشنر پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ میں متعدد اہم فیصلوں پر اثر ڈالنے کی کوشش کی، جبکہ ایپسٹین کے ذریعے قائم شدہ رابطوں اور عالمی تعلقات سے فائدہ اٹھایا۔ رپورٹ کے مطابق کشنر کے اثر و رسوخ کی وجہ سے بعض حساس قومی اور بین الاقوامی امور میں ٹرمپ کی پالیسیوں پر اثر پڑا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپسٹین فائلز کی یہ نئی ریلیز امریکی سیاست میں ایک ہنگامہ خیز موڑ ہے۔ ان دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں امریکی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں براہِ راست یا بالواسطہ مداخلت کر سکتی ہیں۔ سابق صدر ٹرمپ کی قانونی حیثیت اور سابقہ فیصلوں پر سوالات اٹھنے کے بعد یہ فائلز واشنگٹن میں سیاسی دباؤ بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں۔
نئی دستاویزات میں ایپسٹین کے نیٹ ورک کی تفصیلات بھی موجود ہیں، جس میں مالی لین دین، جائیدادوں کی خرید و فروخت، اور کم عمر لڑکیوں کے استحصال کے الزامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض صفحات میں تصاویر اور ویڈیوز ایسے مواد پر مشتمل ہیں جو عالمی سطح پر سکینڈل کے درجے پر آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، فائلز میں متعدد امریکی اور غیر ملکی شخصیات کے نام بھی شامل ہیں، جن کے تعلقات اور مداخلتوں کو شفاف انداز میں سامنے لایا گیا ہے۔
امریکی اور بین الاقوامی میڈیا نے ایپسٹین فائلز کی اس تازہ ریلیز کو بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزات صرف ایپسٹین کے جرائم کی روشنی میں اہم نہیں بلکہ امریکی سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی تعلقات کے تجزیے کے لیے بھی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔جیفری ایپسٹین کی نئی فائلز امریکی اور عالمی سیاست میں کئی تہلکہ خیز سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔ اسرائیل، روس اور متحدہ عرب امارات کے اثر و رسوخ، ٹرمپ اور جیرڈ کشنر کے کردار، اور سابق صدر کی ’کمپرومائزڈ‘ حیثیت پر مبنی دعوے امریکی سیاست اور عوامی رائے پر دیرپا اثر ڈال سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان دستاویزات سے انصاف، شفافیت اور بین الاقوامی تعلقات میں نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ امریکی عوام اور عالمی برادری کے لیے یہ ایک نئے مرحلے کی شروعات بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔