اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) حکومتِ پاکستان کی جانب سے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کی اجازت دینا
لیکن بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان ایک ایسا فیصلہ ہے جو کھیل اور سیاست کے پیچیدہ تعلق کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر کھیلوں کے میدان سے باہر کے عوامل کا عکاس ہے، جہاں قومی وقار، خارجہ پالیسی اور عوامی جذبات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ایک طرف پاکستان نے عالمی کرکٹ ایونٹ میں شرکت کی منظوری دے کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی کھیلوں سے خود کو الگ تھلگ نہیں کرنا چاہتا۔ یہ فیصلہ نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ عالمی برادری کو یہ باور کراتا ہے کہ پاکستان کھیلوں کو سفارتی تنہائی کا شکار بنانے کے حق میں نہیں۔ دوسری جانب بھارت کے خلاف میچ سے دستبرداری اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاک-بھارت تعلقات اب بھی اس سطح پر نہیں پہنچ سکے جہاں کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جا سکے۔
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اس اہم فیصلے سے قبل چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان مشاورت ہوئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کرکٹ جیسے مقبول کھیل کے فیصلے اب محض کھیل تک محدود نہیں رہے بلکہ قومی پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں۔ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ حکومت کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ حساس قومی معاملات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی۔
تاہم اس فیصلے کے ممکنہ اثرات سے بھی چشم پوشی ممکن نہیں۔ آئی سی سی ایونٹس میں پاک-بھارت مقابلہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میچ ہوتا ہے، جس سے نہ صرف مالی فوائد وابستہ ہوتے ہیں بلکہ شائقین کی دلچسپی بھی عروج پر ہوتی ہے۔ ایسے میں میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ پاکستان کے لیے سفارتی اور مالی دونوں حوالوں سے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ادھر پی سی بی کی جانب سے پلان بی کی تیاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ادارہ ہر ممکن صورتحال کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہتا ہے۔ متبادل ٹورنامنٹ کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کرکٹ کو جمود کا شکار نہیں ہونے دینا چاہتا، چاہے عالمی سطح پر حالات جیسے بھی ہوں۔
آخرکار یہ فیصلہ کھیل، سیاست اور قومی مفادات کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی کھیلوں میں اس طرح کے فیصلے پاکستان کے طویل المدتی مفاد میں ہوں گے یا نہیں؟ اس کا جواب وقت دے گا، تاہم فی الحال یہ واضح ہے کہ پاکستان نے کھیل کے میدان میں اترتے ہوئے بھی اپنے قومی مؤقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔