اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کیلگری پولیس سروس کے ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازوں پر آویزاں بڑا سا بورڈ واضح پیغام دیتا ہے: “ہم بھرتی کر رہے ہیں۔” یہ اعلان دراصل اس سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا اس وقت کیلگری پولیس کو اہلکاروں کی کمی کے باعث ہے۔
کیلگری پولیس سروس کی چیف کانسٹیبل کیٹی مک لیلن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ کیلگری پولیس ملک کی تیسری سب سے بڑی میونسپل پولیس فورس ہے، مگر آبادی کے تناسب سے اہلکاروں کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق فورس میں اس وقت تقریباً 3,200 ملازمین ہیں، جن میں سے 2,300 فرنٹ لائن پولیس افسران ہیں، جو روزمرہ جرائم اور ہنگامی صورتحال سے براہِ راست نمٹتے ہیں۔
چیف مک لیلن کا کہنا ہے کہ وہ رواں برس سٹی کونسل کے سامنے ایک چار سالہ منصوبہ پیش کریں گی، جس کے تحت مزید 660 پولیس افسران کی بھرتی کی جائے گی۔ ان کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ دباؤ فرنٹ لائن پر موجود افسران پر ہے، جو اہلکاروں کی کمی کے باعث زیادہ تر صرف ردِعمل پر مبنی پولیسنگ تک محدود ہو چکے ہیں، جبکہ جرائم کی روک تھام اور کمیونٹی سے روابط جیسے پیشگی اقدامات کے لیے وقت میسر نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کی نوکری اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل اور ذہنی دباؤ کا باعث بن چکی ہے۔ فورس کے تقریباً 13 فیصد افسران کو مختلف وجوہات کی بنا پر دیگر ذمہ داریوں پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ چھ فیصد افسران اس وقت طبی رخصت سمیت دیگر وجوہات کے باعث کام پر موجود نہیں۔
35 سال سے پولیس سروس سے وابستہ مک لیلن کے مطابق 1990 کی دہائی میں بندوق سے متعلق ایک کال پورے سال کی بڑی واردات سمجھی جاتی تھی، مگر آج صورتحال یہ ہے کہ نوجوان افسران روزانہ اسلحہ، منشیات اور ذہنی صحت کے بحرانوں سے نمٹ رہے ہیں۔ ان کے بقول، لوگ اب زیادہ تر اس لیے پولیس کو فون کرتے ہیں کیونکہ وہ کسی نہ کسی بحران کا شکار ہوتے ہیں۔
چیف مک لیلن نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ پولیس کی مصروفیت کے باعث نوجوانوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں سے رابطہ اور آگاہی نہایت ضروری ہے تاکہ انہیں جرائم کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب، ماؤنٹ رائل یونیورسٹی کے جسٹس اسٹڈیز کے پروفیسر ڈگ کنگ کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کی کمی صرف کیلگری کا مسئلہ نہیں بلکہ کینیڈا کی تقریباً تمام بڑی پولیس ایجنسیاں اسی چیلنج سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں افسران ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
کنگ کا کہنا ہے کہ بھرتی کے عمل میں خواتین اور نسلی اقلیتوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ خواتین اس وقت مجموعی پولیس فورس کا صرف 20 فیصد ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پولیس ادارے ایک دوسرے سے تجربہ کار افسران لینے پر انحصار کرتے رہے ہیں، جس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پولیس فورسز کو کالجوں اور یونیورسٹیوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، جہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دستیاب ہے اور جو مستقبل میں پولیسنگ کے شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔