اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کے ساتھ کرکٹ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کو نہ صرف بروقت بلکہ درست اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان کرکٹ کی مینجمنٹ میں غیر منصفانہ رویے اور کھیل کی روح کے ساتھ کھیلنے کے اصولوں کی خلاف ورزی کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت نے کرکٹ کو جنٹل مین گیم کے بجائے کاروبار اور سیاسی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے کھیل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں عالمی کرکٹ کے ضابطوں اور آئی سی سی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، اور اس سے کھیل کے اصل روح کو نقصان پہنچا ہے۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ کھیل کے اندر منصفانہ مقابلہ اور کھلاڑیوں کی عزت و سالمیت کو ہر حال میں برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "کھیل کو صرف کاروباری مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ کھلاڑیوں، شائقین اور ملک کی کرکٹ کے مجموعی معیار کے لیے ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔”
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے یہ فیصلہ کھیل کی سالمیت اور منصفانہ رویے کو برقرار رکھنے کے لیے لیا گیا ہے اور مستقبل میں بھی پاکستان ایسے کسی بھی اقدام کی حمایت کرے گا جو کرکٹ کے اصل اصولوں اور کھلاڑیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
انہوں نے زور دیا کہ آئی سی سی سمیت تمام بین الاقوامی کرکٹ کے اداروں کو کھیل کی روح اور کھلاڑیوں کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کرکٹ ایک منصفانہ اور عالمی سطح پر معتبر کھیل کے طور پر قائم رہ سکے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اس بات پر یقین رکھے گا کہ کھیل کو سیاست یا کاروبار کے لیے استعمال نہ کیا جائے، اور کرکٹ کے کھیل کو صرف کھیل کے اصولوں اور جنٹل مین گیم کے طور پر برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عالمی کرکٹ میں شفافیت اور منصفانہ مقابلہ کے فروغ کے لیے پاکستان اپنا موقف مستقل طور پر برقرار رکھے گا۔