اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)البرٹا کے سابق پریمیئر جیسن کینی نے واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ حکمران جماعت یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی (یو سی پی) کے کسی بھی رکن کو کینیڈا سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کرانے کی درخواست پر دستخط کرنے کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز حاصل نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یو سی پی کی بنیاد ہی ایک مضبوط البرٹا اور متحدہ کینیڈا کے تصور پر رکھی گئی تھی، اس لیے علیحدگی جیسے اقدام کی حمایت پارٹی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
جیسن کینی نے پیر کے روز دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ پارٹی جسے انہوں نے 2017 میں قائم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا اور 2022 تک اس کی قیادت کی، ابتدا ہی سے متحدہ کینیڈا کے اندر صوبائی حقوق کے تحفظ کی حامی رہی ہے۔ ان کے مطابق یو سی پی کے پلیٹ فارم پر 2019 اور بعد ازاں ہونے والے البرٹا کے انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدوار دراصل متحدہ کینیڈا کے حامی بن کر ہی عوام کے سامنے گئے تھے۔
سابق پریمیئر نے کہا کہ اگر کسی رکنِ اسمبلی نے عوام سے ووٹ اس بنیاد پر لیے کہ وہ کینیڈا کے اتحاد پر یقین رکھتا ہے، تو پھر اس کا کینیڈا سے علیحدگی کی درخواست پر دستخط کرنا عوامی اعتماد سے صریح انحراف کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یو سی پی کے ارکان اس طرح کے کسی اقدام میں ملوث نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا کی علیحدگی کی تحریک میں تیزی، دستخطی مہم جاری، نئی سروے رپورٹ میں حمایت میں اضافہ
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا سے علیحدگی کے لیے ووٹ کرانے کی مہم کے ایک رہنما اور وکیل جیف راتھ نے دعویٰ کیا کہ پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کی قیادت میں یو سی پی کے کچھ ارکان نے اس درخواست پر دستخط کیے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صوبائی پرائیویسی قوانین کے باعث وہ ان ارکان کے نام ظاہر نہیں کر سکتے۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی جماعت کے ارکان کسی بھی درخواست پر دستخط کرنے کے لیے آزاد ہیں اور وہ اپنے ارکانِ اسمبلی کے ذاتی فیصلوں کی نگرانی نہیں کرتیں۔ بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ محض ایک فرضی صورتِ حال ہے کیونکہ انہیں کسی ایسے رکن کے بارے میں علم نہیں جس نے درخواست پر دستخط کیے ہوں۔
پریمیئر اسمتھ کا کہنا تھا کہ اگر انہیں واضح طور پر بتایا جائے کہ کون سے ارکان نے دستخط کیے ہیں تو اس پر بات ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ یو سی پی کا کاکس متحدہ کینیڈا کے اندر ایک خودمختار البرٹا کی حمایت پر متفق ہے، جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کے دائرہ اختیار کا احترام کریں۔
دوسری جانب، یو سی پی کاکس کے ترجمان نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ حکومت کی پالیسی بالکل واضح ہے اور وہ متحدہ کینیڈا کے اندر ایک مضبوط اور خودمختار البرٹا کی حامی ہے، جبکہ انہیں کسی بھی رکن کے درخواست پر دستخط کرنے کی اطلاع نہیں۔
اپوزیشن این ڈی پی کے رہنما نہید نینشی نے بھی اس معاملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی یو سی پی رکن نے علیحدگی کی درخواست پر دستخط کیے ہیں تو اسے اپنے حلقے کے عوام کے سامنے اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو علیحدگی کے نعرے پر منتخب ہو کر آئے ہوں۔
جیسن کینی نے مزید کہا کہ علیحدگی کی تحریک سے وابستہ بعض افراد کی جانب سے امریکی حکام سے ملاقاتیں کرنا انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ ان کے بقول کینیڈا کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔