اردو ورلد کینیڈا ( ویب نیوز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو موجودہ صورتحال پر بہت فکر مند ہونا چاہیے۔
ایک امریکی میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہمیشہ ایرانی عوام کا ساتھ دیا اور ان کے مفادات کے تحفظ کی بات کی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج مشرقِ وسطیٰ میں امن ممکن نہ ہوتا۔ انہوں نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیوں نے خطے میں استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر جمعے کے روز اہم مذاکرات متوقع ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران بظاہر کسی پیش رفت کا خواہشمند نظر آتا ہے، تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا بات چیت واقعی کسی نتیجے تک پہنچتی ہے یا نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ایران کو مذاکرات کا موقع دیا گیا تھا، لیکن وہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اسی پس منظر میں امریکا نے ایران کے خلاف “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران مستقبل میں مڈنائٹ ہیمر جیسی کارروائی دوبارہ دیکھنا چاہے گا۔ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور متوقع مذاکرات خطے کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، جبکہ عالمی برادری بھی ان بات چیت کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔