اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا اور ایران کے درمیان اہم جوہری مذاکرات آج عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوں گے
جس کیلئے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے پہلے ہی عمان پہنچ چکے ہیں۔ اس پیش رفت کو خطے کی سیاست میں اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں ایران کی نمائندگی کریں گے، جبکہ امریکی وفد کی قیادت مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف کر رہے ہیں۔ وفد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں، جس سے مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی آج صبح امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پورے اختیار کے ساتھ بات چیت میں حصہ لے رہا ہے اور اس کا مقصد ایک منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار مفاہمت تک پہنچنا ہے۔یاد رہے کہ یہ مذاکرات ابتدائی طور پر جمعے کے روز ترکیہ کے شہر استنبول میں شیڈول تھے، تاہم ایران نے مقام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جس کے بعد بات چیت کو عمان منتقل کر دیا گیا۔ مبصرین کے مطابق عمان ماضی میں بھی حساس سفارتی رابطوں کیلئے غیر جانبدار مقام کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔
ایران نے مذاکرات کیلئے چند شرائط بھی پیش کی تھیں، جن میں علاقائی شراکت داروں کو شامل نہ کرنا اور بات چیت کو صرف جوہری معاملات تک محدود رکھنا شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں پر مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔