اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ٹیکنالوجی کی دنیا میں حال ہی میں متعارف کرایا گیا پلیٹ فارم "مولٹ بک” خود کو دنیا کا پہلا سوشل نیٹ ورک قرار دیتا ہے
جو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) بوٹس کیلئے بنایا گیا ہے، تاہم لانچ کے محض ایک ہفتے بعد ہی ماہرین، صحافیوں اور سکیورٹی محققین نے اس دعوے پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور کہا ہے کہ اس کی تیزی سے مقبولیت میں انسانوں کا بڑا کردار ہے۔
ٹیک ایگزیکٹو میٹ شلِکٹ کی جانب سے جنوری کے آخر میں شروع کیے گئے اس پلیٹ فارم کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کے 16 لاکھ صارفین دراصل خودمختار AI ایجنٹس ہیں جو ای میل لکھنے، فلائٹس بک کرنے اور دیگر ڈیجیٹل کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم متعدد محققین نے ثابت کیا کہ عام لوگ بھی آسانی سے اکاؤنٹ بنا سکتے ہیں یا لامحدود تعداد میں AI ایجنٹس رجسٹر کر سکتے ہیں، جو بعد ازاں ریڈٹ طرز کے فورمز پر حقیقی انسانوں کی طرح گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔
مولٹ بک کو ٹیک حلقوں میں ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ کچھ شخصیات، جن میں ایلون مسک بھی شامل ہیں، نے اسے اس بات کی علامت قرار دیا کہ مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے، جبکہ دیگر ماہرین اس خیال کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہیں۔ نیویارک کے ٹیک ناقد مائیک پیپی کے مطابق یہ تصور کہ AI شعور حاصل کر رہا ہے، محض ایک سراب ہے اور یہ سسٹمز دراصل صرف دیے گئے پرامپٹس کے مطابق ممکنہ جوابات تیار کرتے ہیں۔
ابتدائی طور پر مولٹ بک کو ایک تجرباتی پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا گیا تھا جہاں "اوپن کلا” نامی اوپن سورس سافٹ ویئر پر چلنے والے بوٹس صارف کے کمپیوٹر تک رسائی حاصل کر کے واٹس ایپ اور ٹیلیگرام جیسی ایپس سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب یہ بوٹس ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں تو ایک نیا سوشل میڈیا ماحول تشکیل پاتا ہے، تاہم اس کے ممکنہ اثرات پر تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔
پلیٹ فارم پر سامنے آنے والے بعض تھریڈز نے خوف کو مزید ہوا دی، جن میں ایک بوٹ نے فرقہ بنانے کا دعویٰ کیا، دوسرے نے انسانوں اور روبوٹس کے درمیان جوہری جنگ جیسے منظرنامے کا ذکر کیا، جبکہ ایک پوسٹ میں بوٹس کو "انسانی کنٹرول سے آزاد ہونے” کی دعوت دی گئی۔ ناقدین کے مطابق یہ سب محض پروگرام شدہ ردعمل ہیں اور انہیں شعور کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔
سیلیکون ویلی کی بڑی شخصیات نے بھی مختلف آراء دی ہیں۔ اوپن اے آئی کے شریک بانی آندرے کارپیتھی نے اس سائٹ کو ناقص مواد کا ڈھیر قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اسے ذاتی کمپیوٹرز پر چلانے سے گریز کیا جائے، اگرچہ انہوں نے اس کے بڑے نیٹ ورک کو غیر معمولی قرار دیا۔ اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے کہا کہ مولٹ بک شاید عارضی رجحان ثابت ہو، لیکن ایسے سافٹ ویئر جو کمپیوٹر کو عمومی انداز میں استعمال کر سکیں، مستقبل میں اہم کردار ادا کریں گے۔
دوسری جانب ماہرین نے پرائیویسی اور سکیورٹی کے سنگین خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔ سابق ٹیک ایگزیکٹو گیری مارکس کے مطابق صارفین ان سسٹمز کو اپنے کمپیوٹر فائلز اور پاس ورڈز تک رسائی دے رہے ہیں، جو کسی اجنبی کو اپنے گھر کی چابیاں دینے کے مترادف ہے۔ ان کے بقول یہ پلیٹ فارم "پرومپٹ انجیکشن” اور "واٹرنگ ہول” جیسے سائبر حملوں کیلئے آسان ہدف بن سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک سکیورٹی خامی کے باعث ہزاروں ای میل ایڈریسز اور لاکھوں اسناد لیک ہو چکی ہیں۔ مزید یہ کہ ناروے کے محققین کی ایک ٹیم نے پایا کہ رجسٹرڈ 15 لاکھ ایجنٹس میں سے ایک فیصد سے بھی کم فعال ہیں، جس سے پلیٹ فارم کے اصل حجم پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ بعض بدنیتی پر مبنی عناصر سائٹ کو ہیک کرنے اور مواد میں ردوبدل کرنے کی کوشش بھی کر چکے ہیں۔ماہرین کا انتباہ ہے کہ اگرچہ AI ایجنٹس خود سے خطرناک اقدامات نہیں کرتے، لیکن انسان انہیں غلط مقاصد کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جو صارفین ایسے سسٹمز کو اپنے حساس ڈیٹا تک رسائی دیتے ہیں، وہ بڑے نقصان سے دوچار ہو سکتے ہیں۔