اردوورلڈکیینڈا(ویب نیوز)ٹورنٹو کے پولیس چیف مائرن ڈیمکیو نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے پولیس افسران کو ان کے اقدامات پر جوابدہ بنایا جائے گا۔ یہ بیان ایک بڑے اور جامع تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں پرتشدد جرائم سے جڑے ایک مبینہ مجرمانہ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔
چیف ڈیمکیو نے یارک ریجنل پولیس کے حکام کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ملوث افسران کے اقدامات تکلیف دہ اور تشویشناک ہیں۔ ان کے مطابق سات حاضر سروس اور ایک ریٹائرڈ پولیس اہلکار کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہیں، جنہیں گرفتار اور معطل کر دیا گیا ہے۔
یارک ریجنل پولیس کے مطابق یہ تحقیقات جون 2025 میں یارک ریجن میں قتل کی ایک مبینہ سازش ناکام بنانے کے بعد شروع ہوئیں۔ سات ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات میں دائرہ وسیع ہوتا گیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 27 افراد پر فوجداری الزامات عائد کیے گئے۔
ٹورنٹو پولیس سروسز بورڈ نے الزامات کی سنگینی کے پیش نظر پولیسنگ کے انسپکٹر جنرل سے آزاد اور جامع جانچ کی درخواست کی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عوام کو شفاف معلومات فراہم ہوں گی اور جوابدہی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔
یارک پولیس کے مطابق کارروائی ایک ایسے مجرمانہ نیٹ ورک کے خلاف کی گئی جو مختلف علاقوں میں سرگرم تھا۔ پولیس افسران کے خلاف عائد الزامات میں رشوت لینا، انصاف میں رکاوٹ ڈالنا، اعتماد کی خلاف ورزی، منشیات کی اسمگلنگ اور چوری شامل ہیں۔
چیف ڈیمکیو نے واضح کیا کہ ان افراد کے خلاف الزامات ٹورنٹو پولیس سروس کی مجموعی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے آٹھ ہزار سے زائد اہلکار دیانت داری سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
استعفے سے متعلق سوال پر چیف ڈیمکیو نے کہا کہ ان کی توجہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے اور عوام کے اعتماد کی بحالی پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔