اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں جمعہ کی نماز کے دوران امام بارگاہ خدیجتہ الکبری میں خودکش دھماکے میں 15 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور نے مسجد میں داخلے سے روکنے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق دھماکے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کا عمل جاری ہے اور پمز اسپتال میں اب تک 11 لاشیں اور 60 زخمی پہنچ چکے ہیں۔ زخمیوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر انہیں اسلام آباد اور راولپنڈی کے دیگر اسپتالوں میں بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔
پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی ہیں اور علاقے کو گھیر کر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ جمعہ کی نماز کی دوسری رکعت کے دوران، نمازیوں کے سجدے میں ہونے کے دوران ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ تصادم کے دوران مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کی شدت اتنی تھی کہ قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ ان کے کزن کا بیٹا بھی اس دھماکے میں شہید ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور شہداء کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی اور وزیرداخلہ محسن نقوی سے واقعے کی تحقیقات کر کے ذمہ داران کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں تشدد اور بے امنی پھیلانے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔وزیراعظم نے وزیر صحت کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور ہسپتالوں میں صورتحال کی نگرانی کرنے کی ہدایت بھی کی۔