اردوورلڈکیینڈا( ویب نیوز)کیلگری سٹی کونسل اگر شہر بھر میں ری زوننگ (Citywide Rezoning) کے مکمل خاتمے کی طرف بڑھتی ہے تو وفاقی حکومت کی جانب سے ہاؤسنگ کے لیے ملنے والی لاکھوں ڈالر کی فنڈنگ خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ انتباہ سٹی انتظامیہ کی ایک نئی رپورٹ میں دیا گیا ہے۔
یہ وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سٹی کونسل متنازعہ بلینکٹ ری زوننگ بائی لا پر دوبارہ غور کرنے جا رہی ہے۔ یہ بائی لا وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ اہداف پورے کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا، تاہم اسے سیاسی اور عوامی سطح پر مسلسل مخالفت کا سامنا رہا ہے۔
میئر جیرومی فارکس، جو اس بائی لا کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں، کا مؤقف ہے کہ وفاقی فنڈنگ کو مخصوص منصوبہ بندی کے طریقۂ کار کے بجائے نتائج سے مشروط ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ کیلگری میں نئے گھروں کی تعمیر کا مضبوط ریکارڈ خود اپنی مثال ہے۔
نومبر 2025 میں فارکس نے کہا تھایقیناً میں خود اور ملک بھر کے بڑے شہروں کے دیگر میئرز اس بات کی بھرپور وکالت کریں گے کہ فنڈنگ کو نتائج سے جوڑا جائے۔ اصل مقصد ضروری ہاؤسنگ کی تعمیر ہونی چاہیے، نہ کہ کسی ایک مخصوص طریقۂ کار سے سختی سے جڑے رہنا۔”
تاہم، سٹی انتظامیہ کی رپورٹ—جو آئندہ ہفتے انفراسٹرکچر اینڈ پلاننگ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے گی—میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت ہاؤسنگ ایکسیلیریٹر فنڈ (HAF) کے تحت طے شدہ “اہداف” اور “اقدامات” دونوں کو لازمی وعدے تصور کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان وعدوں سے پیچھے ہٹنا معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے۔شہر بھر میں ری زوننگ کا مکمل خاتمہ دو اہم اقدامات سے دستبرداری کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے:
سٹی کی جانب سے زمین کی درجہ بندی میں تبدیلی کے ذریعے منظوریوں کے عمل کو تیز کرنالینڈ یوز بائی لاز میں ترامیم کر کے “مسنگ مڈل” ہاؤسنگ کو فروغ دینا
کونسلر آندرے شیبو نے رپورٹ کے لہجے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں نتائج کو حد سے زیادہ سنگین بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہایہ رپورٹ بہت زیادہ مایوسی اور دھمکی آمیز انداز میں لگتی ہے، جیسے کہا جا رہا ہو کہ ‘یہ نہ کرو ورنہ نقصان ہوگا’۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے فیصلے کسی معاہدے کی بنیاد پر محدود نہیں کیے جا سکتے۔”
ہاؤسنگ ایکسیلیریٹر فنڈ کی نگرانی کینیڈا مارگیج اینڈ ہاؤسنگ کارپوریشن (CMHC) کرتی ہے، جس نے تصدیق کی ہے کہ وہ کیلگری سٹی کونسل کی کارروائیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
سیٹی نیوز کو دیے گئے ایک بیان میں CMHC نے کہاہم توقع کرتے ہیں کہ بلدیات اپنے معاہدوں کی پاسداری کریں گی۔ اس میں کیلگری کے وہ وعدے بھی شامل ہیں جن کے تحت امتیازی زوننگ کے خاتمے اور منظوریوں کے عمل کو تیز کرنا شامل ہے۔ اگر ان وعدوں پر عمل نہ ہوا یا انہیں واپس لیا گیا تو ہاؤسنگ ایکسیلیریٹر فنڈ کی رقم خطرے میں پڑ سکتی ہے۔”
رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ HAF کے علاوہ وفاقی حکومت کی دیگر فنڈنگ، جن کی مالیت بھی لاکھوں ڈالر ہو سکتی ہے—جیسے ٹرانزٹ اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے رقم—بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم، HAF کے برعکس یہ معاہدے ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے۔
کچھ کمیونٹی نمائندوں کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ رابرٹ لہوڈی، جو کیلگریئنز فار تھاٹ فل گروتھ کے رضاکار ہیں، نے رپورٹ کی زبان کو غیر ضروری طور پر خوف پھیلانے والی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھاوہ لفظ ‘ہو سکتا ہے’ استعمال کر رہے ہیں، یعنی یہ سب محض شور ہے۔ یہ کنفیوژن پیدا کر رہا ہے، نہ کہ کونسل یا کیلگری کے شہریوں کو شفاف اور حقائق پر مبنی معلومات فراہم کر رہا ہے، اور سچ کہوں تو یہ شرمندگی کی بات ہے۔”
انفراسٹرکچر اینڈ پلاننگ کمیٹی بدھ کے روز اس رپورٹ کا جائزہ لے گی