اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما سے متعلق
ایک انتہائی توہین آمیز مصنوعی ذہانت (اے آئی) ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کردی، جس پر شدید تنقید کے بعد یہ پوسٹ ہٹا دی گئی۔رپورٹس کے مطابق ویڈیو میں باراک اوباما اور مشیل اوباما کو بن مانس کی شکل میں دکھایا گیا تھا، جسے سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد وائٹ ہاؤس نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ویڈیو ایک اسٹاف رکن نے غلطی سے پوسٹ کردی تھی اور معاملے کا علم ہوتے ہی اسے ڈیلیٹ کردیا گیا۔
تاہم امریکی سیاست دان اور سابق صدارتی امیدوار کاملا ہیرس نے وائٹ ہاؤس کے اس وضاحتی بیان پر شکوک کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش پر یقین کرنا مشکل ہے کیونکہ ابتدا میں ویڈیو کا دفاع کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ٹرمپ کون ہیں اور ان کے نظریات کیا ہیں۔”
ڈیموکریٹک رہنما برنی سینڈرز نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ویڈیو شیئر کی اور سوال اٹھایا کہ کیا ریپبلکن رہنما ایک نسل پرست شخص کے سامنے جھکتے رہیں گے؟ ان کے بیان نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اوباما سے متعلق پوسٹ مکمل طور پر نہیں دیکھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی معاملے کا علم ہوا، پوسٹ ہٹا دی گئی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ روزانہ ہزاروں چیزوں کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ ایک غیر ارادی معاملہ تھا۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا میں سیاسی کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے، اور اس طرح کے واقعات دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔