اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بدنام زمانہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی فائلز میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنے کے بعد
بھارت کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے فوری وضاحت کا مطالبہ کردیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایپسٹین فائلز میں مودی کا حوالہ سامنے آنے پر بھارتی پارلیمنٹ میں شدید شور شرابہ دیکھنے میں آیا، جہاں اپوزیشن نے حکومت سے دو ٹوک جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ الزامات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے حکومت پر لازم ہے کہ وہ عوام کو حقیقت سے آگاہ کرے۔عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ نے کہا کہ وزیرِ اعظم پر لگنے والے سنگین الزامات کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے حساس معاملے پر خاموشی مزید سوالات کو جنم دے گی۔
کانگریس کی سینئر رہنما پرینکا گاندھی نے بھی مودی اور ایپسٹین کے مبینہ روابط پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک بدنام زمانہ مجرم سے بھارتی وزیرِ اعظم کا رابطہ آخر کس مقصد کے لیے تھا؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرے۔دوسری جانب کانگریس رہنما پون کھیرا نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین نے اپنی تحریروں میں ذکر کیا تھا کہ مودی نے اسرائیل میں امریکی صدر کے مفاد میں ایک تقریب کے دوران رقص و موسیقی میں حصہ لیا۔ تاہم اس دعوے کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام آنا بھارتی سیاست میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ معاملہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید محاذ آرائی کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات کی گونج بڑھتی رہی تو اس کے اثرات ملکی سیاست پر دور رس ہوسکتے ہیں۔