اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ترکیہ میں ٹپ سے متعلق ہیرا پھیری کرنے والے ریسٹورنٹ پر 42ہزار ڈالر جرمانہ عائد کر دیا گیا ۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ترک حکام کی جانب سے ریسٹورنٹس اور کیفے میں اضافی مالی چارجز پر پابندی کے بعد وزارت تجارت نے ان لوگوں کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں جو اپنے کھانوں کی فہرست )مینیو) میں قیمتیں بڑھا کر سروس چارجز وصول کرنا چاہتے ہیں۔ حال ہی میں سرکاری گزٹ میں قیمتوں کے لیبل کے ضابطے میں ترمیم کا ضابطہ شائع ہوا جسے وزارت تجارت نے تیار کیا تھا اور یہ چند روز قبل نافذ العمل ہوا ہے۔اس ضابطے نے ریسٹورنٹس، کیفے، مٹھائی کی دکانوں اور اسی طرح کے اداروں کو صارفین سے سروس چارجز، ٹیبل چارجز یا بیٹھنے کی فیس جیسے کسی بھی نام کے تحت اضافی رقوم وصول کرنے سے روک دیا ہے تاہم بہت سے ریسٹورنٹس نے غیر قانونی طور پر اپنی قیمتیں بڑھانے کا سہارا لیا جن میں اپنے کارکنوں میں تقسیم کی جانے والی ٹپ بھی شامل ہے۔ اس معاملے نے گزشتہ دو دنوں کے دوران ترکیہ میں وسیع بحث چھیڑ دی اور وزارت تجارت کو مداخلت پر مجبور کر دیا۔ وزارت تجارت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعوں کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا کہ لازمی ٹپ اور سروس چارجز کی منسوخی کے بعد کھانے کے مینیو کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔وزارت نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ مینیو میں شامل کر کے اضافی سروس چارجز وصول کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کے ساتھ نرمی نہیں برتے گی۔ وزارت نے متعلقہ پوسٹس پر تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس تناظر میں جب متعلقہ ریسٹورنٹ سے پوچھا گیا، جس نے میز پر یا داخلی راستے پر قیمتوں کی فہرست آویزاں نہیں کی تھی کہ کیا وہ سروس چارجز لے رہا ہے تو اس نے بتایا کہ سروس چارجز کی وصولی کی مدت ختم ہونے کے بعد ریسٹورنٹ نے اپنے ملازمین کو نقصان سے بچانے کیلئے اپنی قیمتیں 16,500ترک لیرا تک اپ ڈیٹ کر دی ہیں۔وہ پہلے 15,000ترک لیرا کے ساتھ 12فیصد سروس چارجز لے رہا تھا جس سے کل رقم 16,800ترک لیرا بنتی تھی۔ اس نے یہ فرق اپنے ملازمین کو ادا کیا ہے۔