اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) جاپان میں منعقد ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں حکمران اتحاد نے میدان مار لیا
شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوانِ زیریں میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی، جس کے بعد وزیراعظم سانائے تاکائیچی کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگئی ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق جاپانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی مجموعی 465 نشستوں کے لیے اتوار کو ووٹنگ ہوئی، جس میں ووٹرز نے بھرپور حصہ لیا۔ سرکاری میڈیا کے ایگزٹ پولز کے مطابق قدامت پسند حکمران اتحاد 323 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہا، جو دو تہائی اکثریت کے لیے درکار تعداد سے زیادہ ہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے دوبارہ وزیراعظم منتخب ہونے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق واضح اکثریت حکمران اتحاد کو نہ صرف مضبوط حکومت بنانے میں مدد دے گی بلکہ اہم قانون سازی اور پالیسی فیصلوں کو بھی آسان بنائے گی۔64 سالہ سانائے تاکائیچی اکتوبر میں حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی سربراہ منتخب ہونے کے بعد وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئی تھیں۔ وہ جاپان کی سیاست میں قدامت پسند نظریات کی نمائندگی کرتی ہیں اور ملکی معیشت و دفاع کو مضبوط بنانے پر زور دیتی رہی ہیں۔
وزیراعظم تاکائیچی نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے مہنگائی پر قابو پانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سیلز ٹیکس میں 8 فیصد تک کمی کی تجویز دی ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ علاوہ ازیں، انہوں نے خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر فوجی اخراجات بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد کی یہ کامیابی جاپان کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ مضبوط پارلیمانی حمایت کے باعث حکومت کو اقتصادی اصلاحات اور دفاعی اقدامات تیزی سے نافذ کرنے کا موقع ملے گا۔