اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)سابق کینیڈین کابینہ وزیر کرسٹیا فری لینڈ کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ اور دیگر ممالک کے تعلقات کے حوالے سے اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ “اپنا رویہ درست کرے۔”
2025 میں اپنی حلف برداری کے بعد سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سمیت کئی ممالک کو الحاق (ضم کرنے) اور اشیاء پر بھاری محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکیاں دی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک جاری تجارتی جنگ کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
کرسٹیا فری لینڈ، جنہوں نے جنوری میں رکنِ پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، جمعے کے روز ایچ بی او کے پروگرام “ریئل ٹائم ود بل ماہر” میں شریک ہوئیں۔ فری لینڈ نے اس وقت استعفیٰ دیا جب یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی نے انہیں یوکرین کی معاشی ترقی کے لیے مشیر مقرر کیا۔
پروگرام کے دوران بل ماہر نے فری لینڈ سے پوچھا کہ کیا وہ وزیر اعظم مارک کارنی کے اس مؤقف سے متفق ہیں کہ عالمی نظام میں ایک “دراڑ” آ چکی ہے، جس کا حوالہ کارنی نے حال ہی میں ورلڈ اکنامک فورم میں اپنی تقریر کے دوران دیا تھا۔
فری لینڈ نے اس تقریر کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اپنا طرزِ عمل درست نہیں کرتا تو دنیا کہیں زیادہ “غریب” ہو جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی دنیا جہاں ممالک کو چین جیسی طاقتوں پر انحصار کرنا پڑے، وہاں انسانی حقوق اور جمہوریت کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہے گی۔
واضح رہے کہ مارک کارنی نے حال ہی میں بیجنگ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت چین سے محدود تعداد میں برقی گاڑیاں درآمد کی جائیں گی، جبکہ اس کے بدلے زرعی مصنوعات پر عائد محصولات میں نرمی کی جائے گی۔
فری لینڈ نے کہا،دنیا، خاص طور پر جمہوری دنیا، اس صورت میں واقعی کہیں زیادہ غریب ہو جائے گی اگر آپ لوگ اپنا رویہ درست نہ کریں۔انہوں نے مزید کہا،کیونکہ ایسی دنیا جہاں ہمیں چین پر انحصار کرنا پڑے، وہاں انسانی حقوق کی کوئی قدر نہیں ہوتی، وہاں جمہوریت کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔
فری لینڈ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب جولائی میں کینیڈا-امریکہ-میکسیکو تجارتی معاہدے (CUSMA) کا طے شدہ جائزہ لیا جانا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ عندیہ دے چکی ہے کہ وہ الگ الگ دو طرفہ معاہدوں پر غور کر سکتی ہے، یا اس معاہدے کو مکمل طور پر ختم کرنا بھی ایک آپشن ہو سکتا ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ مسلسل کینیڈا سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر محصولات لگانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ امریکہ کو کینیڈا کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا، جبکہ حالیہ مہینوں میں گرین لینڈ کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کی باتیں کی گئیں۔
کینیڈا کے بارے میں امریکی صدر کی ناراضگی میں مزید اضافہ گزشتہ ماہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب مارک کارنی کی ورلڈ اکنامک فورم میں کی گئی تقریر کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ اس تقریر میں کارنی نے کہا تھا کہ پرانا عالمی نظام ختم ہو چکا ہے اور درمیانی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بڑی طاقتوں کے معاشی دباؤ کا مقابلہ کریں۔
اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ کارنی شکر گزار نہیں ہیں، بعد ازاں انہوں نے غزہ کے لیے اپنے مجوزہ “بورڈ آف پیس” میں کینیڈا کی شمولیت کی دعوت واپس لے لی اور چین کے ساتھ کینیڈا کے برقی گاڑیوں کے معاہدے کو “خطرناک” قرار دیا۔
جمعے کے روز فری لینڈ نے کہا کہ جب وہ وزیر خزانہ تھیں تو کینیڈا کی معیشت کو متنوع بنانے پر کام جاری تھا، اور 2024 میں ٹرانس ماؤنٹین پائپ لائن کا افتتاح اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔
انہوں نے کہا،ہم نے ایک پائپ لائن بنائی، جو بہت اہم ہے۔ اس سے کینیڈا کی معیشت کو تنوع ملا اور ہمیں بحرالکاہل تک رسائی ملی، تاکہ ہم امریکہ پر اتنا انحصار نہ کریں، کیونکہ اس وقت آپ ایک قابلِ اعتماد بوائے فرینڈ نہیں ہیں۔”فری لینڈ نے اس صورتحال کو “انتہائی افسوسناک” قرار دیا۔
انہوں نے کہا،یک غیر امریکی ہونے کے ناطے یہ بات کہنا مجھے عجیب لگتا ہے، لیکن امریکہ واقعی ایک عظیم ملک ہے۔آخر میں انہوں نے ونسٹن چرچل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،ونسٹن چرچل درست کہتے تھے کہ امریکہ آخرکار صحیح فیصلہ کرتا ہے، مگر اس سے پہلے ہر دوسرا راستہ آزما لیتا ہے۔ تو براہِ کرم، باقی سب آزمانا ختم کریں اور اب صحیح کام شروع کریں۔”